حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پی ٹی آئی قیادت کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دے، محمود اچکزئی

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ سیاسی معاملات کو الفاظ کے ہیر پھیر کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال تک بدعنوانی، رشوت ستانی اور دیگر خرابیوں کے باعث پہنچا ہے، اس لیے سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے اصل مسائل کو سامنے رکھنا چاہیے اور الفاظ کے کھیل سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مارچ کے لیے کنٹینرز موجود ہیں اور چار تاریخ کو مارچ شروع کرنے کا پروگرام ہے۔ اگر حکومت مارچ منسوخ یا ملتوی کرانا چاہتی ہے تو اس کے لیے واضح راستہ موجود ہے کہ پی ٹی آئی رہنماو¿ں کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔اپوزیشن لیڈر نے تحریک انصاف کو تجویز دی کہ موجودہ صورتحال میں وہ اپنے دیگر مطالبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف ایک مطالبہ سامنے رکھے کہ انہیں اپنے قائد سے ملاقات کا حق دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت، ہسپتال یا دیگر معاملات کے مطالبات فی الحال چھوڑ کر صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر توجہ مرکوز کی جائے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کو درپیش موجودہ صورتحال میں یہ معاملہ اہم ہے، کیونکہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں بھی جیل میں ہیں اور ان کے حوالے سے بھوک ہڑتال کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایسا بڑا سیاسی فیصلہ ہے جو کوئی ایک شخص اپنی ذات میں نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق نہ سہیل آفریدی، نہ بیرسٹر گوہر اور نہ ہی سلمان اکرم راجہ تنہا اس نوعیت کا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کرنے کی پیشکش بھی کرچکے ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر کسی قیدی کو اس بات پر مجبور کرنے کو درست نہیں سمجھتے کہ وہ حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے یا ملک چھوڑ کر لندن یا کسی دوسرے ملک چلا جائے۔ ان کے بقول اگر حکومت اور متعلقہ فریقوں کے درمیان بانی پی ٹی آئی سے متعلق کوئی بات چیت ہوئی ہے اور حکومت واقعی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو اسے واضح طور پر بتانا چاہیے کہ اصل رکاوٹ کیا ہے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی الجھاو¿ کسی ایک فریق کے اکیلے حل کرنے کا معاملہ نہیں، اس کے لیے سنجیدہ سیاسی کوشش اور باہمی رابطے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کو معاملات کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جس سے سیاسی کشیدگی کم ہو اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں