کوئٹہ(پ ر) فیصل بینک کے ایک صارف کے اکاؤنٹ سے ڈیبٹ کارڈ، ایس ایم ایس الرٹس اور دیگر بینکنگ سروسز کی مد میں مبینہ طور پر بار بار رقم وصول کیے جانے کے معاملے پر صارف نے بینکنگ چارجز کی شفافیت اور صارفین کے حقوق سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ صارف کے مطابق اس کے اکاؤنٹ سے تیسری مرتبہ رقم وصول کی گئی، جبکہ جس ڈیبٹ کارڈ کے چارجز کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ پہلے ہی ایکسپائر ہو چکا ہے اور اصل ایکسپائرڈ کارڈ بھی اس کے پاس موجود ہے۔ متاثرہ صارف کا کہنا ہے کہ معاملے کی وضاحت کے لیے فیصل بینک کی ہیلپ لائن سے رابطہ کیا گیا تو بینک کے نمائندے نے بتایا کہ کارڈ ایکسپائر ہونے کے بعد کوئی فعال کارڈ موجود نہیں اور اس حوالے سے کوئی فعال کارڈ ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ صارف نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر بینک کے اپنے ریکارڈ کے مطابق کارڈ ایکسپائر ہونے کے بعد فعال نہیں تھا تو پھر اس کے نام پر ڈیبٹ کارڈ چارجز کس بنیاد پر عائد اور وصول کیے جاتے رہے۔ صارف کے مطابق اس کے پاس بینک کی مکمل اسٹیٹمنٹ اور ایکسپائرڈ ڈیبٹ کارڈ موجود ہے، جنہیں متعلقہ حکام کے سامنے بطور ریکارڈ پیش کیا جا سکتا ہے۔ صارف کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف ایک معمولی بینک چارج کا نہیں بلکہ اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ایک ایسے کارڈ کے نام پر مسلسل چارجز کیوں عائد کیے گئے جس کے بارے میں ہیلپ لائن سے بتایا گیا کہ وہ فعال نہیں تھا۔ متاثرہ صارف نے مزید بتایا کہ مذکورہ اکاؤنٹ طویل عرصے سے استعمال نہیں ہو رہا تھا، اس کے باوجود ایس ایم ایس الرٹس اور دیگر سروس چارجز عائد ہوتے رہے۔ اس نے فیصل بینک میں باقاعدہ شکایت نمبر C0807260633 بھی درج کرائی۔ بینک کے کمپلینٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے دیے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈیبٹ کارڈ چارجز بینک کے شیڈول آف چارجز کے مطابق عائد کیے گئے تھے اور اکاؤنٹ میں اس وقت رقم موجود نہ ہونے کے باعث یہ چارجز بقایا رہ گئے، بعد ازاں اکاؤنٹ میں رقم دستیاب ہونے پر اندرونی منتقلی کے ذریعے بقایا رقم وصول کرلی گئی۔ تاہم صارف نے بینک کے جواب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے واضح طور پر بتایا جائے کہ اس کے اکاؤنٹ سے تیسری مرتبہ وصول کی جانے والی رقم کس مخصوص چارج کی مد میں تھی، یہ چارج کس مدت سے متعلق تھا، اس سے قبل کتنی رقم وصول کی جا چکی تھی اور ہر کٹوتی کے وقت کون سا شیڈول آف چارجز نافذ تھا۔ صارف نے فیصل بینک سے ڈیبٹ کارڈ کی ایکٹیویشن اور ایکسپائری کا مکمل ریکارڈ، کارڈ ایکسپائر ہونے کے بعد عائد کیے گئے تمام چارجز کی تاریخ اور رقم، ایس ایم ایس الرٹ اور دیگر سروس چارجز کی تفصیل، ہر کٹوتی کے لیے متعلقہ شیڈول آف چارجز اور وہ شرائط و ضوابط فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن کے تحت مبینہ بقایا جات کی رقم اکاؤنٹ سے وصول کی گئی۔ صارف نے بالخصوص تیسری مرتبہ رقم وصول کیے جانے کی مکمل حسابی تفصیل بھی طلب کی ہے۔ متاثرہ صارف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بینکنگ محتسب پاکستان اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فیصل بینک سے مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے اور اکاؤنٹ سے ہونے والی تمام کٹوتیوں کا ریکارڈ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مذکورہ چارجز کس بنیاد پر عائد اور وصول کیے گئے۔ صارف کا کہنا ہے کہ بینک کے تحریری جواب میں چارجز کو شرائط و ضوابط کے مطابق قرار دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب ہیلپ لائن سے اسے کارڈ ایکسپائر ہونے کے بعد کسی فعال کارڈ اور فعال ریکارڈ کی موجودگی سے متعلق معلومات نہیں ملیں، اس لیے اس تضاد کی مکمل وضاحت متعلقہ بینک ریکارڈ سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہے۔ صارف نے کہا کہ وہ اپنی اصل بینک اسٹیٹمنٹ اور ایکسپائرڈ ڈیبٹ کارڈ متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہے اور اگر کسی کٹوتی کی بنیاد درست ثابت نہ ہو تو رقم کی واپسی بھی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے بینک صارفین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی اسٹیٹمنٹس، ڈیبٹ کارڈ کی حیثیت، ایس ایم ایس اور دیگر سروس چارجز باقاعدگی سے چیک کریں اور کسی بھی غیر واضح کٹوتی کی صورت میں زبانی وضاحت کے بجائے بینک سے تحریری تفصیل اور متعلقہ ریکارڈ طلب کریں۔
فیصل بینک کی مبینہ غیرشفاف کٹوتیاں، صارف کے اکاؤنٹ سے تیسری بار رقم وصول
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل