کوئٹہ ۔۔۔۔۔جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے توئی باتوزئی ڈیم قلعہ سیف اللہ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی در و دیوار اور اس کے طول و عرض میں جمعیت علماء اسلام کی عوامی خدمات اور ترقیاتی اقدامات آج بھی واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں، توئی باتوزئی ڈیم قلعہ سیف اللہ کی تقدیر بدلنے والا ایک تاریخی اور انقلابی منصوبہ ہے جس نے لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابلِ کاشت بنا کر علاقے میں زرعی انقلاب کی بنیاد رکھی اور ہزاروں خاندانوں کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنایا، اگر سیاسی بغض، ذاتی مفادات اور نفرت کی سیاست سے بالاتر ہوکر عوامی فلاح و بہبود، اجتماعی مفاد اور صوبے کی ترقی کو ترجیح دی جائے تو بلوچستان کے ہر حلقے میں اسی نوعیت کے عوام دوست اور دور رس نتائج کے حامل منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ کے عوام کے وسائل کے جے یو آئی کے نمائندوں نے امین بن کر ان کی امانت کا حق ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ایسے بے شمار ترقیاتی منصوبے موجود ہیں جن کے ثمرات سے عوام براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کی قیادت اور اس کے نمائندے عوام کی مرہونِ منت ہوکر ایوانوں میں پہنچتے ہیں، اس لیے وہ کسی فرد، گروہ یا طاقت کے نہیں بلکہ اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ موسمی پرندوں، سیاسی پیراشوٹرز اور مصنوعی نمائندگی کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والوں نے بلوچستان کے اجتماعی مفادات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور صوبے کی معاشی و ترقیاتی بنیادوں کو کمزور کیا۔ سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے محدود وسائل اور مختصر مدتِ اقتدار کے باوجود بلوچستان کو ایسے میگا منصوبے دیے جو آج بھی اپنی افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے نمایاں ہیں، مگر افسوس کہ ان منصوبوں کے بعد ترقی کا وہ تسلسل برقرار نہ رہ سکا اور متعدد منصوبے آج بھی اسی مقام پر رکے ہوئے ہیں جہاں انہیں چھوڑا گیا تھا۔ ہم آج بھی ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ بلوچستان کی اکثریتی عوام کی حقیقی نمائندگی کا دعویٰ جمعیت علماء اسلام ہی کا حق ہے اور عوامی وسائل کی امانت و دیانت کے ساتھ حفاظت کرنے والی جماعت بھی جے یو آئی ہے، آج بھی عوام کا غیر متزلزل اعتماد جمعیت علماء اسلام کی قیادت اور اس کی سیاسی جدوجہد کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائ اسلام کے حقیقی عوامی مینڈیٹ کے مقابلے میں غیر مقبول، غیر عوامی اور مصنوعی نمائندے مسلط کرکے بلوچستان کی ترقی کا سفر روک دیا گیا، آج صوبے میں جو سیاسی بے یقینی، اضطراب اور ہیجانی کیفیت پیدا ہوچکی ہے اس کے بنیادی اسباب میں انتخابات کے حوالے سے اٹھنے والے انجینئرڈ انتخابات کے الزامات اور عوامی مینڈیٹ پر پیدا ہونے والے سوالات بھی شامل ہیں۔ جمعیت علمائ اسلام کے کارکن اور بلوچستان کے عوام اپنی قیادت کے آئندہ لائحہ عمل کے منتظر ہیں، تاہم ہم واضح کرتے ہیں کہ اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور عوام کے حقِ نمائندگی، حقِ رائے دہی اور حقیقی سیاسی مینڈیٹ کے دفاع کے لیے ہر آئینی و جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کرتے رہیں گے۔
توئی باتوزئی ڈیم قلعہ سیف اللہ کی تقدیر بدلنے والا ایک تاریخی اور انقلابی منصوبہ ہے، مولانا عبدالواسع
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل