واشنگٹن۔۔۔۔۔۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ پر مکمل اختیار نہیں رکھتا اور اس کے بحری بیڑے کو امریکی افواج تباہ کرچکی ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی فوجی کمانڈر کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔سینٹکام کے بیان بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے کیوں کہ امریکی افواج ایرانی بحریہ کو تباہ کرچکی ہیں اور اب ایران کے پاس بحریہ موجود نہیں ہے۔امریکی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا کہ مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل سے زائد تیل گزر چکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اس اہم تزویراتی بحری گزرگاہ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔یہ بیان ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی اور اس اہم بحری راستے کی نگرانی کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے جس کی ایران نے بندش کر رکھی ہے۔…..ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے ریکارڈ مقدار میں تیل کی ترسیل کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ایک موقع پر میڈیا سے گفتگو میں باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں، لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 50 ڈالرز اضافی پریمیئم عائد ہے۔ایرانی اسپیکر نے کہا کہ یا تو تیل کی مارکیٹ احمق ہے جو اتنی زیادہ قیمت پر تیل خرید رہی ہے یا پھر امریکا کا بیانیہ گھڑنے والا نظام لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔باقر قالیباف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا کی بات پر یقین کرنے والوں کے لیے آبنائے ہرمز میں مفت ڈالرز چھاپنے کی مشین لگی ہوئی ہے، جائیں اور لے لیں۔
امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل