لاہور (پ ر) قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے کہا ہے کہ دھرنا موخر ہوا ہے، عوام کے حقوق کی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ عوامی مسائل کے حل اور ظالمانہ ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف احتجاجی تحریک پہلے سے زیادہ منظم اور بھرپور انداز میں جاری ہے۔ حکمران یہ نہ سمجھیں کہ دھرنا موخر ہونے سے عوام کی آواز بھی خاموش ہوگئی ہے، عوام اپنے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔وحدت روڈ، بھیکیوال موڑ پر بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ثمینہ سعید نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑا اور نہ آئندہ چھوڑے گی۔ یہ جدوجہد کسی ایک جماعت یا چند افراد کا معاملہ نہیں بلکہ ہر اس گھر کی آواز ہے جو مہنگائی، بھاری بجلی کے بلوں، پٹرول کی قیمتوں اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج سوال یہ ہے کہ عوام کب تک قربانیاں دیتے رہیں گے؟ ہر نئے ٹیکس اور ہر اضافی بوجھ کا رخ عام آدمی کے گھر کی طرف کر دیا جاتا ہے، جبکہ عوام پہلے ہی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ معاشی مشکلات کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنا ہے یا عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہے۔ثمینہ سعید نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے مزید رقم وصول کرنا اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کرنا عام خاندان کی معاشی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی کا خرچ نہیں بڑھتا بلکہ اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ، تعلیم، علاج اور روزگار سمیت پوری معیشت اس کے اثرات سے متاثر ہوتی ہے۔ حکومت کو عوام کی اس بنیادی حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ خواتین مہنگائی کی پہلی ضرب اپنے کچن میں محسوس کرتی ہیں۔ گھر کا بجٹ بنانے والی مائیں جانتی ہیں کہ محدود آمدن میں بچوں کی خوراک، تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنا کس قدر مشکل ہوچکا ہے۔ اس لیے خواتین کی آواز کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ معاشی بحران کی حقیقی ترجمانی سمجھا جائے۔
عوامی حقوق کے لیے احتجاجی تحریک پوری قوت سے جاری رہے گی،ثمینہ سعید
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل