نصیرآباد ،ربی کینال کے قریب ہوٹل پر ڈکیتی کی واردات

نصیرآباد ( محمد یونس عمرانی)میر عمر خان پرکانی کے فرزند میر خیر جان پرکانی اور میر عبد العزیز پرکانی سمیت ودیگر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات نصیرآباد کے علاقے ربی کینال، پولیس تھانہ نوتال کی حدود میں ہوٹل پر مبینہ طور پر ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں چھ مسلح افراد دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر پہنچے اور میرے ہوٹل سے مبینہ طور پر 4 لاکھ روپے نقد چھین لیے۔میر عمر خان پرکانی کے فرزند میر خیر جان پرکانی اور میر عبدالعزیز پرکانی سمیت ودیگر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے ہمارے ہوٹل سے 2026 ماڈل کی ایک موٹر سائیکل اور چار ٹچ موبائل فونز بھی مبینہ طور پر چھین لیے، جبکہ واردات کے وقت کوئٹہ جانے والی دو مسافر بسیں بھی ہوٹل پر موجود تھیں جنہیں بھی مبینہ طور پر لوٹ لیا گیا۔مسافروں کے مطابق مسلح افراد نے دونوں بسوں میں موجود خواتین سے مبینہ طور پر زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا، جبکہ دونوں بسوں سے مجموعی طور پر تقریباً 50 سے 60 موبائل فونز بھی مبینہ طور پر لوٹ لیے گئے۔میر خیر جان پرکانی کے مطابق واردات میں مجموعی طور پر چھ افراد شامل تھے، جو دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے تھے، جبکہ بعض افراد کے پاس مبینہ طور پر اسلحہ بھی موجود تھا۔ واردات کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مسافروں اور کاروباری افراد میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔میر خیر جان پرکانی اور میر عبدالعزیز خان پرکانی نے بتایا کہ واقعے کے خلاف انہوں نے اپنی برادری سمیت احتجاج کی کال دی تھی، تاہم آج انہوں نے ایس ایس پی نصیرآباد اسد ناصر سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق ایس ایس پی نصیرآباد نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ آٹھ روز کے اندر ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے جبکہ لوٹا گیا نقدی، موبائل فونز، موٹر سائیکل، زیورات اور دیگر سامان بھی برآمد کرایا جائے گا۔میر خیر جان پرکانی کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی نصیرآباد کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے فی الحال احتجاج ختم کر دیا ہے، تاہم اگر ایک ہفتے کے اندر ملزمان گرفتار نہ ہوئے اور انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے، جو ان کا قانونی و جمہوری حق ہے۔میر خیر جان پرکانی نے کہا کہ کوئٹہ روڈ پر آئے روز ڈکیتی کی وارداتوں کے باعث مسافر خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔کوئٹہ سے نصیرآباد اور دیگر علاقوں کی طرف سفر کرنے والے مسافروں، تاجروں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔میر خیر جان پرکانی میر عبد العزیز پرکانی نے صوبائی حکومت، آئی جی بلوچستان، ڈی آئی جی نصیرآباد اور ایس ایس پی نصیرآباد سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے، لوٹا گیا نقدی، موبائل فونز، زیورات، موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی سامان برآمد کرکے متاثرین کے حوالے کیا جائے۔میر خیر جان پرکانی نے مزید کہا کہ کوئٹہ روڈ سمیت نصیرآباد کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پولیس گشت اور سکیورٹی کے مو¿ثر انتظامات کیے جائیں تاکہ مسافر، تاجر اور عام شہری بلاخوف سفر اور کاروبار کر سکیں۔میر خیر جان پرکانی میر عبد العزیز پرکانی نے واضح کیا کہ وہ پولیس کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کا انتظار کریں گے، تاہم مقررہ مدت میں عملی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ احتجاج کا اعلان کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں