کراچی ( پ ر)حب میں جاری سنگین بجلی کے بحران اور طویل غیر معمولی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان برائے بلوچستان میر علی حسن زہری اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کراچی میں کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طحہٰ سے اہم ملاقات کی، جس میں حب کے عوام کو درپیش بجلی کے سنگین مسائل کے فوری اور مستقل حل پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں حب میں بجلی کی طویل بندش، غیر معمولی لوڈشیڈنگ، 24 گھنٹے بند رہنے والے فیڈرز، نئے بجلی کنکشنز، بجلی چوری اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ملاقات کے دوران حب کے عوام کے لیے اہم ریلیف پیکیج پر اتفاق کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اس وقت 24 گھنٹے مکمل طور پر بند رہنے والے چار پی ایم ٹی فیڈرز پر ابتدائی طور پر 8 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔ بجلی کی فراہمی کا یہ سلسلہ آج رات سے شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس موقع پر طے پایا کہ ابتدائی مرحلے میں چار فیڈرز پر 8 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی، جبکہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں مرحلہ وار مزید اضافہ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد حب کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور 24 گھنٹے بجلی کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی شدید مشکلات کا ازالہ کرنا ہے۔ میر علی حسن زہری اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ حب کے عوام طویل عرصے سے بجلی کے بحران کی اذیت برداشت کر رہے ہیں، اب انہیں مزید اندھیروں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بجلی کی مسلسل بندش نے نہ صرف گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، صنعت اور روزگار کے مواقع پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حب کی اکثریتی آبادی اس وقت مالی مشکلات سے دوچار ہے، اس لیے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کے بلوں میں ممکنہ رعایت اور مالی ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے بھی کے الیکٹرک انتظامیہ سے بات چیت کی گئی ہے۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کے الیکٹرک کے متعلقہ افسران اور عملہ حب کے سیاسی و عوامی نمائندگان کے ساتھ مل کر بجلی کے مسائل کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ اس سلسلے میں چیئرمین میونسپل کارپوریشن حب، وائس چیئرمین ضلع کونسل حب، چیئرمینز اور دیگر سیاسی و عوامی نمائندگان کے الیکٹرک انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے تاکہ نئے بجلی کنکشنز، بجلی چوری اور دیگر متعلقہ مسائل کو مو¿ثر انداز میں حل کیا جا سکے۔ ملاقات میں نئے بجلی کنکشنز کے حصول کے عمل کو آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ 500 روپے فی کنکشن کی رقم قسط وار وصول کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مالی مشکلات کا شکار شہریوں کو نئے کنکشن کے حصول میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کے الیکٹرک انتظامیہ نے حب میں خصوصی ریلیف کیمپ قائم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی، جہاں شہریوں کو بجلی کے بلوں، شکایات، نئے کنکشنز اور دیگر متعلقہ مسائل کے حوالے سے سہولت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ میر علی حسن زہری اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے واضح کیا کہ حب کے بجلی بحران کا حل محض لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی نہیں بلکہ ایک جامع اور مستقل حکمت عملی ہے۔ بجلی چوری کی روک تھام، نئے کنکشنز کی فراہمی، خراب ٹرانسفارمرز اور فیڈرز کے مسائل کا فوری حل، بجلی کے نظام کی بہتری اور کے الیکٹرک و مقامی سیاسی و عوامی نمائندگان کے درمیان مو¿ثر رابطہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حب کے عوام کو بجلی کی بنیادی سہولت کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عوام کو ریلیف کی فراہمی تک کے الیکٹرک انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور بجلی کی صورتحال میں بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر چار فیڈرز پر 8 گھنٹے بجلی کی فراہمی شروع کی جا رہی ہے، یہ اختتام نہیں بلکہ بہتری کے سفر کا آغاز ہے۔ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور عوامی ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ حب میں بجلی کے نظام کو بتدریج معمول پر لایا جا سکے۔ ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حب کے عوام کو اندھیروں سے نکال کر بجلی کے بحران کے مستقل حل کی طرف لے جانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے، سیاسی قیادت اور عوامی نمائندگان مل کر عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔ حب کے عوام کو ریلیف ملے گا، بجلی کا بحران بتدریج ختم کیا جائے گا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
میر علی حسن زہری اور ثمینہ ممتاز زہری کی چیف ایگزیکٹو آفیسرکے الیکٹرک سے ملاقات
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل