مخصوص نشست پر اسمبلی پہنچنے والے افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بن گئے ، حلف بھی اٹھالیا

مظفر آباد۔۔۔۔۔۔۔آزاد جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا،قائم مقام صدر آزاد کشمیر چودھری طارق فاروق نے ان سے حلف لیا۔جمعہ کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مخصوص نشست پر اسمبلی پہنچنے والے مسلم لیگ (ن )کے رہنما بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم منتخب کر لیا ہے،کشمیر کے 17ویں وزیر اعظم منتخب ہونے والے افتخار گیلانی کو 30 اراکین اسمبلی کے ووٹ ملے جبکہ ان کے مخالف پاکستان پیپلز پارٹی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار مختار احمد عباسی 14 ووٹ حاصل کر پائے۔عام انتخابات میں مظفر آباد کے حلقے سے مختار احمد عباسی نے افتخار گیلانی کو شکست دی تھی۔مسلم لیگ (ن)کو کشمیر کی 53 رکنی قانون ساز اسمبلی میں 32 ارکان کی حمایت حاصل تھی، تاہم کشمیر میں مسلم لیگ (ن )کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنی ہی پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار افتخار گیلانی کو ووٹ نہیں دیا۔ یاد رہے کہ شاہ غلام قادر وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے تاہم پارٹی کی جانب سے ان کی نامزدگی نہیں کی گئی تھی جس پر انھوں نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔کشمیر میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے باعث قانون ساز اسمبلی کے حالیہ عام انتخابات متاثر ہوئے تھے اور ریاست میں تین مرحلوں میں انتخابات کا انعقاد کروایا گیا تھا۔امن و امان کی صورتحال کے باعث پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی سات نشستوں پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔ جن حلقوں میں انتخابات ملتوی کیے گئے وہ زیادہ تر ضلع پونچھ میں واقع ہیں ۔حالیہ عام انتخابات میں بیرسٹر افتخار گیلانی دارالحکومت مظفر آباد سے (ن )لیگ کے امیدوار تھے اور انھیں پیپلز پارٹی کے امیدوار مختار احمد عباسی نے شکست دی تھی، تاہم بعدازاں وہ مخصوص نشست پر نامزدگی کے ذریعے اسمبلی پہنچے۔یاد رہے کہ افتخار گیلانی 2021 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ٹیکنوکریٹ نشست پر کشمیر اسمبلی کا حصہ بننے والے افتخار گیلانی کو گذشتہ روز )27 اگست)پاکستان مسلم لیگ (ن )کی جانب سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔نومنتخب وزیر اعظم افتخار گیلانی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری پارٹی کو مجھ پر جتنا اعتماد ہے، اس کا اظہار ووٹ سے ظاہر ہو گیا ہے۔جن ایم ایل ایز (اراکین اسمبلی)نے مجھے ووٹ دیا ہے وہ سب منتخب ہو کر ایوان کا حصہ بنے ہیں، پہلے میں صرف مظفرآباد کا نمائندہ تھا اور اب منتخب اراکین کے ووٹ کی مدد سے پورے کشمیر کا نمائندہ بن چکا ہوں۔ان کی بطور وزیر اعظم نامزدگی پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے افتخار گیلانی نے کہا کہ مخصوص نشست پر منتخب ہو کر اسمبلی کا حصہ بننے پر نہ تو کوئی آئینی پابندی ہے اور نہ ہی اخلاقی، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے، یہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل مسلم کانفرنس کے رہنما سردار عبدالقیوم خان علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر کامیاب ہونے کے بعد 1991 سے 1996 تک آزاد کشمیر کے وزیر اعظم رہے تھے۔افتخار گیلانی نے کہا کہ پارٹی قیادت کا مجھ پر اعتماد ہے اور ان کی نظر میں میں اِس ایوان کو بہتر چلا سکتا ہوں۔ تنقید تو کسی چیز پر بھی ہو سکتی، اور دور حاضر میں تو یہ سب سے آسان کام ہے۔عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے کے معاملے پر انھوں نے کہا کہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر میں آج جہاں جا رہا ہوں میں اِن وجوہات پر بات نہیں کرنا چاہتا ہے کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔انھوں نے کہا کہ میں نظام میں رہ کر ریاستِ کشمیر کے لوگوں کے لیے بہتر کام کر سکتا ہوں اور یہی میں نے ن لیگ کی گذشتہ حکومت کے پانچ برسوں میں بھی کیا۔اس سے قبل یرسٹر افتخار گیلانی کی جانب سے بھیجے گئے ایک تحریری بیان میں کہا گیا کہ ان کا تصورِ حکومت واضح ہے،ایک ایسی ریاست جو سیاسی طور پر متحد، معاشی طور پر مضبوط، انتظامی طور پر شفاف اور اپنے نوجوانوں کے لیے مواقع کی سرزمین ہو۔انہوںنے کہاکہ وہ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ سیاسی عہدے عارضی ہوتے ہیں، مگر عوام کی خدمت، اداروں کی مضبوطی اور آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑا گیا بہتر نظام ہی کسی قیادت کا اصل ورثہ ہوتا ہے۔دریں اثناء مسلم لیگ (ن )کے صدر شاہ غلام قادر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں افتخار گیلانی کی نامزدگی پر سخت اصولی اختلاف ہے۔انہوںنے کہاکہ ایسا شخص جو پچھلے دونوں الیکشن ہار گیا، اسے وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں ہونا چاہیے،اس سے مسلم لیگ ن کے ووٹ کو عزت دو کے موقف کو نقصان پہنچتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کا افتخار گیلانی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کو میری شکل پسند نہیں تو جماعت میں سے کسی بھی ایسے شخص کو وزیر اعظم بنانا چاہیے تھا جو کم از کم براہِ راست انتخابات جیت کر آیا ہو۔انھوں نے کہا کہ ہمیں اس نامزدگی پر سخت تحفظات تھے، وزیر اعظم صرف اس شخص کو بننا چاہیے جو براہ راست عوام سے ووٹ لے کر آئے۔ہم نے نامزدگی کا اختیار پارٹی کے قائد نواز شریف کو دیا تھا تاہم ہماری اِس حوالے سے نواز شریف سے بات نہیں ہو مگر ہم نے اپنے تحفظات پہنچا دیے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پارٹی کے کسی اور منتخب رکن کو افتخار گیلانی کو ووٹ دینے سے منع نہیں کیا تاہم چند سینئر افراد کے بھی اس حوالے سے اختلافات ہیں چونکہ اس مرتبہ باقی تمام منتخب ارکان نئے ہیں، اس لیے شاید انھیں پارلیمانی معاملات کا زیادہ ادراک نہیں ہے۔انھوں نے آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے کی پیشکش مسترد کرنے کے حوالے سے کہا کہ صدر بننے کا کیا فائدہ ہے؟ پارلیمنٹ سے باہر رہ کر کیا ہو گا؟ ہم نے ساری عمر عوام کے درمیان گزاری ہے اب ایوانِ صدر میں بیٹھ کر کیا کر پائیں گے۔غیر منتخب سیاستدان کے وزیر اعظم بننے سے حقِ حکمرانی کے حق میں پہلے سے احتجاج کرنے والے عوام کی ناراضگی مزید بڑھنے کے امکان سے متعلق شاہ غلام قادر نے کاہ کہ یہ سب تو انھیں سوچنا چاہیے جنھوں نے انھیں وزیر اعظم بنوایا کیونکہ اب اختیار تو انھیں آگے لانے والوں کے ہاتھ میں ہے۔یاد رہے کہ سید افتخار گیلانی کا تعلق مظفرآباد کے ایک کاروباری خاندان سے ہے۔ ان کے دادا پیر بنیاد گیلانی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک معروف شخصیت تھے۔افتخار گیلانی نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی اور بعد ازاں برطانیہ سے سنہ 2005 میں بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی،پاکستان واپسی کے بعد وہ تقریبا دس سال تک وکالت کے شعبے سے منسلک رہے۔بیرسٹر سید افتخار گیلانی نے 2011 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے ٹکٹ پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا انتخاب جیت کر عملی سیاست کا آغاز کیا تھا۔ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے بیٹے عثمان عتیق کو ضمنی انتخاب میں شکست دے کر ممبر قانون ساز اسمبلی (ایم ایل اے)منتخب ہوئے تھے، 2016 میں وہ دوبارہ انتخاب جیتے جس کے بعد انھیں تعلیم کی وزارت دی گئی۔بطور وزیر تعلیم انھوں نے محکمہ تعلیم میں میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنانے کے لیے این ٹی ایس کا نظام متعارف کروایا اور انتظامی نظم و ضبط اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔اسی طرح اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کا نظام اور سرکاری تعلیمی شعبے میں ابتدائی بچپن کی تعلیم کے تصور کو بھی متعارف کرایا گیا تاہم اِس کے بعد 2021 اور 2026 کے عام انتخابات میں وہ کامیابی حاصل نہ سکے۔بی بی سی کے مطابق ان کے ایک رشتہ دار سید امین شاہ گیلانی 1952 میںآزاد کشمیر کی ابتدائی حکومتوں میں وزیر رہے اور جنرل ایوب خان کے دور میں جب بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف ہوا تو افتخار گیلانی کے دادا سید بنیاد علی شاہ گیلانی سمیت ان کے خاندان کے چھ افراد مظفرآباد سے بی ڈی ممبر منتخب ہوئے،ان کے خاندان کے ایک دوسرے فرد سید ممتاز علی گیلانی 1985میں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ممتاز گیلانی 2001میں دوبارہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور سینئر وزیر کے ساتھ ساتھ کشمیر کے قائم مقام وزیراعظم کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔افتخار گیلانی کے رشتہ دار سید غلام مرتضیٰ گیلانی 2005کے بعد دو مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ ان ہی کے خاندان کے سید نثار گیلانی تین مرتبہ میونسپل کارپوریشن مظفر آباد کے مئیر رہے۔افتخار علی گیلانی آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر اراکین میں شامل رہے ہیں،2021 کے انتخابات میں اگرچہ وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے تاہم انھوں نے ن لیگ کے سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے جماعت کی نمائندگی کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں