واشک(نامہ نگار) بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ، محکمہ صحت حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام اور یونیسیف کے تعاون سے ضلع واشک میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر واشک ڈاکٹر محبوب بلوچ تھے۔ تقریب میں ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر واشک اسرار احمد کبدانی، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آزاد فاو¿نڈیشن شمیم بلوچ، ایف سی کوآرڈینیٹر محترمہ سمیعہ عطا کے علاوہ پیرامیڈیکل اسٹاف، ڈی ایچ کیو کا معاون عملہ، اسٹاف نرسز، ایل ایچ ویز، سی ایم ڈبلیوز، ایل ایچ ڈبلیوز، محکمہ تعلیم کے نمائندگان، بیسٹ، این آر ایس پی اور او ٹی پی انچارجز نے شرکت کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بچے کو پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پلانے کا آغاز کرنا، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا، اور چھ ماہ کی عمر کے بعد مناسب تکمیلی غذا شروع کرنے کے ساتھ دو سال یا اس سے زائد عرصے تک ماں کا دودھ جاری رکھنا بچے کی صحت، نشوونما اور قوتِ مدافعت کے لیے انتہائی اہم ہے۔مقررین نے کہا کہ دودھ پلانے والی ماو¿ں کے لیے سازگار اور معاون ماحول پیدا کرنا، شیرخوار بچوں کو دودھ پلانے کے بہترین طریقوں کے فروغ، تحفظ اور معاونت میں ہیلتھ کیئر ورکرز، خاندانوں اور برادری کے کردار کو مضبوط بنانا اور صحت کے مراکز و کمیونٹی کی سطح پر مو¿ثر کونسلنگ اور آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ماں کے لیے دورانِ حمل متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال، ضروری ویکسینیشن، خصوصاً ٹی ٹی ویکسینیشن، اور کسی بھی طبی پیچیدگی کی صورت میں بروقت طبی عملے سے رجوع کرنا ماں اور بچے کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔مقررین کے مطابق بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اور ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا بچے کی جسمانی و ذہنی نشوونما اور قوتِ مدافعت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ماں کے دودھ میں موجود قدرتی غذائی اجزائ اور حفاظتی خصوصیات بچے کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور اس کی بہتر نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماں اور بچے کی شرحِ اموات میں کمی کے لیے عوامی شعور، بروقت ویکسینیشن، مناسب غذائیت اور احتیاطی تدابیر بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ماو¿ں کو چاہیے کہ وہ ابتدائی چھ ماہ تک بچوں کو صرف اپنا دودھ پلانے کو ترجیح دیں۔سیمینار میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مصنوعی دودھ ماں کے دودھ کا مکمل متبادل نہیں، کیونکہ ماں کے دودھ میں بچے کی نشوونما اور صحت کے لیے ضروری غذائی اور حفاظتی اجزائ قدرتی طور پر موجود ہوتے ہیں۔مقررین نے بتایا کہ اگست کے دوران ضلع واشک میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے مختلف آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں ایل ایچ ڈبلیوز کی ٹیمیں، بینظیر پروگرام کے مراکز، نیوٹریشن پروگرام کے او ٹی پی سینٹرز اور تعلیمی ادارے شامل ہیں۔سیمینار اور آگاہی واک نے ایڈووکیسی، عوامی آگاہی اور صحت و غذائیت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی تعاون کے لیے ایک مو¿ثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس سرگرمی کے ذریعے ضلع واشک میں ماں کے دودھ پلانے کے بہترین طریقوں، مادری و بچوں کی غذائیت اور مجموعی صحت کے بہتر نتائج کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور باہمی اشتراک کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے آگاہی واک کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں شرکائ نے آگاہی پیغامات اور شعور اجاگر کرنے کے عزم کے ساتھ شرکت کی۔
واشک ، ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے آگاہی سیمینار اور واک کا انعقاد
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل