معیاری درسی کتاب کسی بھی تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتی ہے، حمید خان درانی

کوئٹہ(خ ن)بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے زیرِ اہتمام بک رائٹرز، مصنفین، ایڈیٹرز، صوبائی جائزہ کاروں، کمپوزنگ و لے آو¿ٹ، نگرانِ طباعت اور پرنٹرز کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے تین روزہ اختتامی تربیتی ورکشاپ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔ورکشاپ میں سیکرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر، چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی، سیکرٹری بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر نیاز ترین، ڈپٹی ڈائریکٹر ادارہ نصابیات نجیب اللہ پانیزئی، ڈائریکٹر پائٹ فاطمہ مندوخیل، محکمہ تعلیم کے مختلف مضامین کے بک رائٹرز، مصنفین، ایڈیٹرز، پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز، پی ایچ ڈی اساتذہ و ماہرین، بیورو آف کریکولم اینڈ ایکسٹینشن سینٹر بلوچستان کے نمائندگان، معروف ماہرینِ تعلیم، محققین، ماہرینِ مضمون اور بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے افسران نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ بلوچستان کی درسی کتب صوبے کے معروف ماہرینِ تعلیم، محققین، ماہرینِ مضمون اور قابل اساتذہ کی علمی و تحقیقی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان معیاری، جدید اور تحقیق پر مبنی نصابی کتب کی تیاری اور طلبہ کو بہتر تعلیمی مواد کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے بھرپور محنت، احتیاط اور مسلسل جائزے کے باوجود درسی کتب میں بعض اوقات اغلاط یا بہتری کی گنجائش باقی رہ سکتی ہے، اس لیے نصابی کتب کی مسلسل نظرثانی، تحقیق اور ماہرین سے رائے لینا ایک مستقل عمل ہونا چاہیے۔ حکومت اور محکمہ تعلیم اس حوالے سے اساتذہ، طلبہ، والدین اور معاشرے کے دیگر باشعور افراد کی تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں قائم ریسرچ سینٹر کے ذریعے نصابی کتب کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید تحقیق، علمی تجزیے اور ماہرین کی آراءکو شامل کرنے کا عمل جاری ہے۔ موصول ہونے والی مفید تجاویز کا باقاعدہ جائزہ لے کر انہیں متعلقہ شعبوں اور ماہرین کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے تاکہ درسی کتب کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد درسی کتب کی تیاری کے مختلف مراحل سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار میں اضافہ، جدید طریقہ ہائے تصنیف و تدوین سے آگاہی، مواد کی علمی و تحقیقی جانچ، پروف ریڈنگ، کمپوزنگ، لے آو¿ٹ، طباعت اور معیارِ اشاعت کے عمل کو مزید مو¿ثر بنانا ہے۔راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو پختہ یقین ہے کہ تحقیق پر مبنی جائزہ، ماہرینِ مضمون کی مشاورت اور مسلسل تربیت کے ذریعے صوبے میں نصابی کتب کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری درسی کتاب کسی بھی تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے کتاب کی تیاری کے ہر مرحلے میں معیار، درستگی، تحقیق اور طلبہ کی تعلیمی ضروریات کو اولین ترجیح دی جارہی ہیں۔اس موقع پر سیکرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر اور چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے بھی ورکشاپ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصابی کتب کی تیاری کے لیے مصنفین، ایڈیٹرز، جائزہ کاروں اور دیگر متعلقہ ماہرین کی تربیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نصابی کتب کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیمی مواد کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہا ہے۔ورکشاپ کے دوران شرکاءکو درسی کتب کی تصنیف، تدوین، جائزہ، تحقیق، زبان و بیان کی درستی، کمپوزنگ، لے آو¿ٹ، پروف ریڈنگ، طباعت اور معیارِ اشاعت سمیت مختلف اہم امور کے حوالے سے جدید طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔ ماہرین نے شرکاءکے سوالات کے جوابات بھی دیے اور درسی کتب کی تیاری کے عمل میں درپیش مختلف مسائل کے حل کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں