پانی چوری کرنے والوں کے خلاف فورتھ شیڈول کے تحت کاروائی کی جائے، قربان علی جتوئی

نصیرآباد(خ ن)صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری ابپاشی سہیل الرحمان بلوچ کے احکامات پر پٹ فیڈر کینال سے پانی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر آفیسران عملدرآمد کو یقینی بنا رہے ہیں صوبائی وزیر اور صوبائی سیکرٹری کے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی خود فیلڈ میں موجود ہیں جن کی نگرانی میں ذرعی پانی کی تقسیم کار کا عمل جاری ہے اس کے ساتھ ساتھ پٹ فیڈر کینال ایریگیشن انتظامیہ حقدار زمینداروں کو ان کا جائز پانی فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر جدوجہد کررہے ہیں خریف کے عروج سیزن کے باجود محکمہ ایریگیشن کے آفیسران عملے کے ہمراہ اپنی تمام تر صلاحیتیں برو کار لارہے ہیں تقریباً 200 کلومیٹر طویل پٹ فیڈر کینال، اس کی شاخوں اور واٹر کورسز کی مسلسل نگرانی کرنا محکمے کے آفیسران کی کاوشوں کا نتیجہ ہے مگر باوجود چند با اثر اور قانون شکن عناصر رات کی تاریکی، دور دراز علاقوں اور امن و امان کی نازک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی پائپ، پمپنگ مشینیں اور دیگر ذرائع استعمال کرکے پانی چوری کر رہے ہیں۔ ان عناصر کے خلاف متعدد ایف آئی آرز درج ہونے کے باوجود موجودہ قانونی کارروائیاں مو¿ثر ثابت نہیں ہو رہی ہیں جس کی اہم وجہ پانی چوری کے کمزور دفعات ہیں جس کے نتیجے میں یہ عناصر بلا خوف و خطر اپنے غیر قانونی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذرعی پانی کی چوری کی روک تھام کیلئے چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی کے ہمراہ آر ڈی 409 سے آر ڈی 418 میر حسن اور آر ڈی 505 بیدار 558 منجھو شوری تک بیرون سائیڈ کا دورہ کیا دورے کا مقصد ان پانی چوروں کو واضح پیغام دینا ہے کہ محکمہ ایریگیشن کے آفیسران اور عملہ ہمہ وقت مستعد ہے ذرعی پانی چوری کی کوئی گنجائش موجود نہیں دورے کے موقع پر چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے کہاکہ پٹ فیڈر کینال سے 200 کلومیٹر طویل کمانڈ ایریاز کو سیراب کرنے کےلیے تمام تر اقدامات کیے جارہے ہیں ذرعی پانی چوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ہم پانی چوروں کے خلاف قانونی کارروائی کررہے ہیں مگر پانی چوری کے کمزور دفعات کی وجہ سے پانی چور بعض نہیں آرہے ہیں ہم نے حکام بالا کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ کینالز ایکٹ میں ترمیم کرکے ایریگیشن انتظامیہ کو آئینی مجسٹریٹ کے اختیارات دئیے جائیں تاکہ غیر قانونی طور پر پانی چوری کرنے والوں کے خلاف فورتھ شیڈول کے تحت کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص غیر قانونی طریقے سے پانی چوری کرنے سے اجتناب کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں