والد کے قتل کا بدلہ لونگا،فرزند آیت اللہ خامنہ ای مجتبیٰ خامنہ ای

تہران : ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کے امریکی صدر ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی۔ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ہم نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی، تاہم ہم نے قطری ثالثوں کا دورہ ایران قبول کیا تھا۔ برطانوی خبر رساایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایران بھی اسی نوعیت کا جواب دے گا۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی وعدہ خلافی کا جواب باہمی اور متناسب کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔ جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کا اپنے والد شہید سید آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تحریری بیان میں مجتبی خامنہ ای نے کہا کہ سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ قوم کا مطالبہ ہے اور یہ ضرور لیا جائے گا، ان مجرموں سے شہید رہنما سمیت تمام شہدا کا بدلہ لینے کا عہد کرتے ہیں اور ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔اپنے والد کی تدفین اور آخری رسومات کے اختتام پر جاری کیے گئے پیغام میں مجتبی خامنہ ای نے ایران اور عراق میں کروڑوں افراد کی جانب سے شہید آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر اظہار تشکر کیا۔انہوں نے کہا کہ تہران، قم، نجف، کربلا، مشہد سمیت دونوں ممالک کے شہروں اور دیہات میں عوام کی بھرپور شرکت قومی اتحاد، استقامت اور انقلابِ اسلامی سے وابستگی کا واضح اظہار ہے۔مجتبی خامنہ ای نے عہد کیا کہ وہ ان کے مشن اور راستے کو پوری ثابت قدمی سے جاری رکھیں گے اور ایران مشکلات کے باوجود اپنے اہداف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ جبکہ ایران کے اعلی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نےکہا ہےکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے جنگ کا خاتمہ ترجیح ہونا چاہیے، تاہم سب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ امریکا کے ساتھ تنازع ایران کے ہتھیار ڈالنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک کے دفاع کی تیاری کبھی نہیں روکی، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا معاہدے سے پیچھے ہٹا تو ایران ہر قسم کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکا پر کسی قسم کا اعتماد نہیں، مذاکرات کے دوران بھی انہوں نے امریکی نائب صدر کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ہمیں امریکا پر بالکل بھی بھروسہ نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں