ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اہم اجلاس

اسلام آباد( پ ر ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کی کمزوریوں یا تکنیکی خامیوں کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ شہریوں کے بنیادی حقوق عزت نجی زندگی سلامتی اور انصاف تک بروقت رسائی کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق، سائبر تحفظ، انصاف تک رسائی، ادارہ جاتی جوابدہی اور دیگر اہم انسانی حقوق کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سائبر کرائم سے متعلق شکایات کے ازالے میں تاخیر اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے آن لائن نظام میں درپیش تکنیکی مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق شہریوں کو موثر، تیز رفتار اور قابل اعتماد شکایتی نظام کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادارہ جاتی خامیوں کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن ہراسانی، جھوٹی معلومات کے پھیلاو¿ اور بدنیتی پر مبنی مہمات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر کمیٹی نے 17 جولائی 2026 کو ڈائریکٹر جنرل NCCIA کو طلب کر لیا ہے تاکہ شکایات کے ازالے میں تاخیر درپیش رکاوٹوں اور نظام میں ضروری اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جا سکے اور مو¿ثر اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں نوجوان احمد جاوید کے المناک قتل کے مقدمے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فراہمی پر کسی قسم کے دباو¿، اثر و رسوخ یا طاقت کو حاوی نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ہر متاثرہ شہری اور اس کے اہل خانہ کو شفاف، غیر جانبدار اور بروقت انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اجلاس میں توہین مذہب سے متعلق مقدمات پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نظرثانی شدہ ایف آئی آر کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی جائے تاکہ قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری، منصفانہ تحقیقات بے گناہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور قانون کے ممکنہ غلط استعمال کی مو¿ثر روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق ملک میں انسانی حقوق کے فروغ، ادارہ جاتی جوابدہی کو مضبوط بنانے، اقلیتوں، خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ اور ہر پاکستانی شہری کے آئینی و بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی اور بھرپور عزم کے ساتھ ادا کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں