مفاہمتی یادداشت امریکا کی شکست کا اعلان ہے،ایران میں نے ایران کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا، وہ گرنے ہی والا ہے، ٹرمپ
تہران /واشنگٹن/ٹوکیو /ابوظبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایران امریکا معاہدے کو امریکا کی شکست کا اعلان قرار دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آذربائیجان میں او آئی سی پارلیمانی یونین اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت دبا ﺅاور جبر کا نتیجہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایرانی قوم کی مزاحمت، استقامت اور طاقت کا مظہر ہے، یہ یادداشت امریکا کی شکست کا اعلان بن گئی ہے۔باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک علاقائی سلامتی کو خود یقینی بنائیں، بیرونی مداخلت مسترد کر دیں۔انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ خود مختاری کے احترام کی بنیاد پر تعاون کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ میں نے ایران کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا ہے، وہ گرنے ہی والا ہے۔عرب تی وی کے مطابق ایک بیان میںایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والی کانگریس کی قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قرارداد بے وقت اور بے معنی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹرز نے میرا کام مشکل بنا دیا ہے، میں یہ کام کسی نہ کسی طرح مکمل کر لوں گا، میں ہمیشہ کام مکمل کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی یا دیگر بحری جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔اس بات کا دعویٰ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کیا۔انہوںنے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا نے ایران کو کوئی نئی مالی امداد فراہم نہیں کی اور نہ ہی ایران کے منجمد فنڈز میں سے کوئی رقم واپس کی گئی ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے منجمد فنڈز میں سے کچھ رقم امریکا جاری کردے گا تاہم اس رقم کا مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہی ہوگا اور اسے براہ راست ایران کو نہیں دیا جائے گا۔ٹرمپ نے کہاکہ ایران کی اس رقم سے امریکا کے کسانوں اور مویشی پالنے والوں سے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر زرعی اجناس خریدے جائیں گے تاکہ ایران میں غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایران کو خوراک کی شدید ضرورت ہے اس لیے ہم ان کے لیے ان پیسوں سے صرف امریکا سے خوراک خریدیں گے۔انہوںنے بتایاکہ ایران نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نہ کوئی ٹول عائد کیا جا رہا ہے، نہ اضافی انشورنس اخراجات طلب کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی اور قسم کی فیس وصول کی جا رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کیا کہ اگر ٹول فیس یا اضافی چارجز نہ لینے کی یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو ایران کے ساتھ جاری مذاکرات فوری طور پر ختم کر دئیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حماس کی سیاسی قیادت کے ایک سینئر رکن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، خطے کی تازہ صورتحال اور فلسطین کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم سے گفتگو کے دوران مشرقِ وسطی میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور ایران امریکا مذاکرات سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔رپورٹس کے مطابق حماس نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے ابتدائی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس پیش رفت سے غزہ میں جاری کشیدگی اور تشدد کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران فلسطینی عوام اور ان کے جائز قومی حقوق کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران فلسطینیوں کی جدوجہد اور ان کے حقوق کے حصول تک ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے غزہ کی موجودہ صورتحال، خطے میں امن کے امکانات اور فلسطینی عوام کو درپیش چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور مختلف علاقائی فریق مستقبل کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے آبنائے ہرمز پر کوئی ملک ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا، عالمی آبی راستے پر ٹیکس یا فیس لگانا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔مارکو روبیو نے ابوظبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو انقلابی تحریک کے بجائے بطور ریاست کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایران ریاست کے طور پر کام کرے تو بڑی ترقی کے مواقع ہیں، خطے میں جب تک ایرانی پراکسیز حملے کریں گے کشیدگی ختم نہیں ہو سکتی۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، عراق میں بھی حماس، حزب اللہ جیسے گروہ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔امریکا ایران بات چیت میں یہ موضوع بھی جلد زیر بحث آئے گا، ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے تمام ممالک امریکا کے مقف سے اتفاق کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایجنسی کے انسپکٹرز بالآخر ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات کا معائنہ کریں گے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ چاہے یہ عمل پرسوں ہو، 1 ہفتے بعد ہو یا 10 دن بعد، یہ اہم ضرور ہے لیکن فیصلہ کن نہیں، یہ معائنہ بہرحال ہو گا۔خیال رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی اور بین الاقوامی معائنوں کے حوالے سے امریکی اور ایرانی حکام کے مقف میں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔