وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح تھا کہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکس نادہندگان کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا، عطاءاللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے آئندہ مالی سال 27۔2026ءکے وفاقی بجٹ کو ”ریلیف پر مبنی اور سابقہ بجٹوں سے مختلف“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت ہے اور تنقید برائے تنقید پر یقین رکھتے ہیں،حکومت نے معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور مو¿ثر انفورسمنٹ کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کر کے تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، صنعت، ہاو¿سنگ، زراعت، آئی ٹی اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبوں کو نمایاں ریلیف فراہم کیا، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرات، بلند مہنگائی، غیر مستحکم شرح تبادلہ اور کم ترین زرمبادلہ ذخائر جیسے سنگین چیلنجز سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا گیا ،ایف بی آر اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس نظام کی بہتری، بڑے شعبوں سے مو¿ثر وصولیوں، ہاو¿سنگ اور برآمدی شعبے کیلئے مراعات، نوجوانوں کیلئے قرض و ہنرمندی پروگرامز، زرعی مشینری پر ڈیوٹی کے خاتمے اور آئی ٹی و فری لانسرز کیلئے سہولتوں کے ذریعے وسیع معاشی سرگرمی اور عوامی ریلیف کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آن لائن بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کو محض تنقید کی عادت ہے اور تنقید برائے تنقید پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کی مخالفین بھی تعریف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ریلیف پر مبنی بجٹ تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے لوگ دعویٰ کر رہے تھے کہ ملک آج دیوالیہ ہوگا، کل دیوالیہ ہوگا، اس دور میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر آ چکے تھے، درآمدی ضروریات پورا کرنے کے لئے وسائل موجود نہیں تھے، شرح تبادلہ شدید اتار چڑھاو¿ کا شکار تھی، روپیہ مستحکم نہیں تھا، برآمد کنندگان کے لئے ایل سیز کھلوانا دشوار تھا، ایسی صورتِ حال تھی کہ مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی اور 50 فیصد تک پہنچنے کی پیشنگوئی کی جا رہی تھی، شرح سود 22 فیصد سے اوپر جا چکی تھی ، ترسیلاتِ زر میں بھی نمایاں کمی ہو چکی تھی۔ کچھ سرکاری شخصیات نے اس لئے چھٹی لے لی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے دور میں ملک دیوالیہ ہو اور کوئی ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ ایسے مشکل دور میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے معیشت کو سنبھالا، محمد نواز شریف کے وژن کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی معاملات کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ پیرس میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاملات طے نہ پاتے، تو خدشہ تھا کہ شاید ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی کاوشوں سے آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کیے، ہم آئی ایم ایف پروگرام میں گئے اور آج معاشی استحکام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے سفر میں وزیراعظم بارہا کہتے رہے کہ جیسے ہی گنجائش پیدا ہوگی عوام کو ریلیف دیا جائے گا، ہم نے گنجائش کا انتظار نہیں کیا بلکہ بھرپور محنت سے یہ گنجائش پیدا کی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات کیں، سفارش کلچر ختم کیا، ٹیکس وصولی کے نظام کو مربوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح تھا کہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکس نادہندگان کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم ہو یا انکم ٹیکس، سفارش پر تقرری کا سلسلہ ختم اور مکمل میرٹ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے،بندرگاہوں سے لے کر انکم ٹیکس دفاتر تک شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام قائم ہے جبکہ بندرگاہوں پر ”فیس لیس اپریزل“ کا نظام نافذ ہے جس کی بدولت درآمد کنندہ یا برآمد کنندہ کا کسٹمز افسر سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا،تمام عمل آن لائن نظام کے ذریعے انجام پاتا ہے،جو کام پہلے ہفتوں میں ہوتے تھے، اب دنوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ فیس لیس سسٹم میں تاخیر یا ناجائز مطالبات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی، مشروبات، سیمنٹ اور تمباکو جیسی بعض بڑی صنعتیں غیر معمولی منافع کمانے کے باوجود متناسب ٹیکس ادا نہیں کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں میں کیمرے نصب کیے گئے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نظام متعارف کروایا گیا، پیداوار اور فروخت کی نگرانی شروع ہوئی اور ہر بوری پر بارکوڈ اور کیو آر کوڈ لگایا گیا تاکہ اس کی مکمل نگرانی ممکن ہو سکے، اس اصلاحاتی عمل کے نتیجے میں صرف شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی صنعت میں دو سو ارب روپے کی لیکج تھی، چھاپے مار کر غیر قانونی تجارت کو روکا گیا جبکہ مشروبات اور سیمنٹ کے شعبوں میں بھی نگرانی کا عمل جاری ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارا مقصد واضح ہے کہ بڑے شعبے بھی وہی ٹیکس ادا کریں جو ان پر لاگو ہے تاکہ ان کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس تنازعات اور مقدمات کے حل کے لیے نئے ٹریبونلز قائم کیے جن کے نئے چیئرمین تعینات ہوئے، زیرِ التوا مقدمات کے فیصلوں کے ذریعے کئی سو ارب روپے کی وصولیاں ممکن ہوئیں، حکمِ امتناع ختم کروائے گئے اور متعلقہ اداروں کو مکمل ریکوری یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں، صرف ایک سال میں تقریباً آٹھ سو ارب روپے کی اضافی وصولی انفورسمنٹ کے ذریعے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ اصلاحات تھیں جن کے نتیجے میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کےلئے مالی گنجائش پیدا کی، یہ وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی کاوشوں کا ثمر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں