خواتین، بچیوں اور کمزور گروہوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، چیف سیکرٹری

خواتین، بچیوں اور کمزور گروہوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، چیف سیکرٹری

چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ صنفی بنیاد پر تشدد ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ آج ہم صوبے بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف ملٹی سیکٹرل کوآرڈینیشن میکانزم (MSCM) کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔ اس میکانزم کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا اور متاثرین کو عزت، تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں بلوچستان بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور مو¿ثر ردعمل کے لیے ملٹی سیکٹرل کوآرڈینیشن میکانزم (MSCM) کے لانچنگ سیرمننی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین و بچوں کی حفاظت اور مساوی سماجی حقوق کے لیے صوبائی حکومت کا عزم ظاہر کرتا ہے۔ خواتین، بچیوں اور کمزور گروہوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہمارے صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس میکانزم کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ محکموں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ہیلتھ سیکٹر، سماجی بہبود، پولیس، مقامی حکومتوں اور سول سوسائٹی کےاس میکانزم کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا اور متاثرین کو عزت، تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکے گا۔ مابین مربوط ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔ یہ میکانزم علاج، تحفظ، قانونی مدد، نفسیاتی سہولیات اور سماجی بحالی کے عمل کو ایک مربوط، تیز اور متاثر کن انداز میں منظم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم اقدام کا مقصد متعلقہ محکموں، اداروں اور شراکت دار تنظیموں کے درمیان مو¿ثر رابطہ کاری کو فروغ دینا اور متاثرہ افراد کو بروقت، مربوط اور معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شرح خواندگی بڑھانے کے لیے صوبے میں دو سال میں 7 لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا جس میں بچیوں کی بھی کافی تعداد ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کے لیے تعلیم حاصل کرنے کی بہت ضرورت ہے کیونکہ تعلیم حاصل کرنے سے ہی وہ اپنے حقوق کی حصول کے لیے کر سکیں گے۔ صوبائی حکومت نے 4 ہزار غیر فعال سکولوں کو فعال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال صوبائی حکومت نے صوبے میں صحت شعبے میں ٹیلی میڈیسن کا آغاز کیا جو کہ کامیاب رہا اور اس 32 بنیادی صحت مراکز مستفید ہو رہے ہیں اور ان میں علاج کرنے والوں میں خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہیں جبکہ اس مالی سال میں 600 سے زیادہ بنیادی مراکز صحت میں ٹیلی میڈیسن کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ تقریب میں متعلقہ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں