حافظ نعیم الرحمن کا پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کے لیے آج ( جمعہ)ملک گیر احتجاج کا اعلان


امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کے لیے آج ( جمعہ)ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبہ پر عملدرآمد نہ ہوا تو چاروں صوبوں میں طویل دھرنے دئیے جائیں گے،امریکہ ، ایران معاہدہ خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے، پاکستان نے اس سلسلے میں بہترین کردار ادا کیا اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر امن کے لیے کوششیں کیں، اسرائیل اور امریکہ نے مل کر ایران پر حملہ کیا لیکن امریکہ اس جنگ میں کوئی ہدف حاصل نہ کر سکا، جب ایران نے کاری ضربیں لگائیں تو امریکہ مذاکرات کی طرف آیا۔ منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا ، تاہم واضح کیا کہ اسرائیل کے ناسور کی موجودگی میں مشرق وسطی میں پائیدار امن کے قیام کا امکان ممکن نہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے آزاد کشمیر میں مسائل کوبات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں جماعت اسلامی کی جانب سے تعاون کی پیشکش کی۔ نائب امیر ڈاکٹر عطاالرحمن، ڈپٹی سیکرٹریز ممتاز سہتو، نذیر جنجوعہ اور رسل خان بابر بھی اس موقع پرموجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 225 روپے فی لیٹر کی جائے، پٹرول پر عائد لیوی ختم کی جائے اور قیمتوں کو تین سال کے لیے منجمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب 10 یا 20 روپے کی کمی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بھی کم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی حالات معمول پر آنے کے بعد پاکستان میں بھی عوام کو سپولیات دی جائیں، حکومت 28 فروری کی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں واپس لائے، لاک ڈان ختم کرے اور مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے اپنی شاہ خرچیاں کم کرے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران آئی ایم ایف کے احکامات کا بوجھ عوام پر منتقل کرتے ہیں، حالانکہ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے دبا کا شکار ہیں۔ موٹرسائیکل چلانے والا عام غریب آدمی ، مزدو، طالب علم اور عوام لیوی کی مد میں حکومت کو سالانہ 400 ارب روپے ادا کر رہے ہیں، جبکہ جاگیرداروں سے صرف 10 سے 12 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔حکومت نے جنگی حالات میں بھی عوام پر ٹیکس عائد کر کے ظلم کیا۔ آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں حکومت عوام سے 1800 ارب روپے وصول کر چکی ہے، انہی حالات میں پنجاب کی وزیراعلی نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خریدی گئی، جبکہ اسمبلی ارکان کی تنخواہوں میں 500 فیصد اضافہ کیا گیا اور ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا۔ حکومت کا کام عوام کو نمائشی اسکیمیں دینا نہیں بلکہ درست پالیسیاں بنانا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران پنجاب میں غربت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ وفاقی بجٹ کے 18 ہزار ارب روپے میں سے تقریبا 8 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی میں چلے جائیں گے۔ انہوں نے سودی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایک غیر مسلم رکن نے کہا کہ سود اللہ کے خلاف جنگ ہے، مگر مسلمان ارکان کو سود کے خلاف بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ 85 فیصد بینکوں کا قرضہ حکومت لے رہی ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی اور کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔ آٹا، چینی اور آئی پی پیز مافیا نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عوام کے حقوق کے لیے نوجوان جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں، نوجوانوں کی طاقت سے حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے کم از کم اجرت 41 ہزار روپے مقرر کی ہے، وزیراعظم شہباز شریف 41 ہزار روپے میں کسی ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کے خاتمہ کا کوئی مستقل حل نہیں بلکہ ایک دھوکہ ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے ترقیاتی بجٹ میں ارکان اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنشنرز کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ مہنگائی 8.2 فیصد بڑھی، پنجاب حکومت نے پنشنرز کے لیے صرف 3.5 فیصد اضافہ کر کے ظلم کیا۔ ای او بی آئی کے تحت صرف 11 ہزار روپے دینا کافی نہیں، اس فنڈ میں اضافہ کیا جائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے 600 ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں، جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اب بھی محفوظ ہے۔ ججز ،جرنیلوں اور سول بیوروکریسی کو بھی چاہیے کہ وہ سامنے آئیں اور اپنی مراعات کم کریں۔ جماعت اسلامی دفاعی بجٹ کی کمی کے حق میں نہیں، اداروں کو انتظامی اخراجات میں کمی لانی ہوگی۔ انہوں نے ایران امریکہ جنگ بندی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے لیے ایک اچھی کوشش ہے، پاکستان نے اس سلسلے میں بہترین کردار ادا کیا اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ مل کر امن کے لیے کوششیں کیں۔ اسرائیل اور امریکہ نے مل کر ایران پر حملہ کیا، لیکن امریکہ اس جنگ میں کوئی ہدف حاصل نہ کر سکا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں