
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال27-2026 کے لیے 3.652 کھرب روپے کے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ذمہ دارانہ مالیاتی دستاویز قرار دیا ہے، جو وفاقی محصولات میں نمایاں کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود تیار کی گئی۔سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے نہ صرف بجٹ کی تفصیلات بیان کیں بلکہ عوامی و نجی شراکت داری (پی پی پی)کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ایک طویل المدتی ترقیاتی حکمت عملی بھی پیش کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے قومی دفاعی ضروریات کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا اپنا آئینی اختیار استعمال کیا ہے۔ ان کے مطابق آئین میں موجود اس شق پر پہلی مرتبہ عمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے آئین میں یہ شق شامل کی۔ وزیراعلی کے مطابق صوبوں نے اپنی مالی مشکلات کے باوجود وفاق کی معاونت پر اتفاق کیا ہے۔وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ مئی 2026 تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 1.644 کھرب روپے موصول ہوئے، جو تخمینوں کے مقابلے میں 441 ارب روپے کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال کے اختتام تک مزید 200 ارب روپے موصول ہونے کی توقع ہے، تاہم اس کے باوجود تقریبا 250 ارب روپے کا خلا برقرار رہے گا۔مراد علی شاہ کے مطابق صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران 676 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن وصولیاں تقریبا 624 ارب روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے، جس سے 52 ارب روپے کی کمی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی محصولات میں کمی کو ملا کر مجموعی مالی خسارہ تقریبا 300 ارب روپے بنتا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سندھ حکومت نے ترقیاتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ گزشتہ سال ایک ہزار 18 ارب روپے کے ریکارڈ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں سے 930 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران سندھ کو وفاقی قابل تقسیم محاصل سے 2.263 کھرب روپے ملنے کی توقع ہے جبکہ صوبائی محصولات کا تخمینہ 456 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایکسائز ریونیو ہدف میں کمی کی گئی ہے۔وزیراعلی کے مطابق صوبے کی اپنی آمدن کا تخمینہ 3.038 کھرب روپے ہے جبکہ وفاقی گرانٹس، غیر ملکی معاونت اور قرضوں کو شامل کرنے کے بعد مجموعی وصولیاں 3.525 کھرب روپے تک پہنچ جائیں گی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے جاری اخراجات کا تخمینہ 2.560 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں 260 ارب روپے کی وہ رقم بھی شامل ہے جو سندھ حکومت قومی دفاعی مقاصد کے لیے وفاقی حکومت کو آئینی گرانٹ کے طور پر فراہم کرے گی۔ اس رقم کو نکال دیا جائے تو صوبے کے انتظامی اخراجات تقریبا 2.3 کھرب روپے بنتے ہیں۔وزیراعلی کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور متعلقہ اخراجات کے لیے 1.264 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 اور 2025 میں دیے گئے ایڈہاک ریلیف الانسز کو بنیادی تنخواہوں میں ضم کر دیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کے لیے 155 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سرکاری جامعات کو 48 ارب روپے دیے جائیں گے۔ اسپتالوں، جامعات اور دیگر خودمختار اداروں سمیت مختلف اداروں کو مجموعی طور پر 686 ارب روپے گرانٹس کی مد میں فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے 54.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت غیر ترقیاتی اخراجات کو موجودہ مالی سال کے 61.87 ارب روپے سے کم کر کے 36 ارب روپے کر دیا ہے۔ وسائل کی کمی کے باعث سالانہ ترقیاتی پروگرام کو گزشتہ سال کے ایک ہزار 18 ارب روپے سے کم کر کے 720 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاہم وزیراعلی نے واضح کیا کہ حکومت نے نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ سال 2,056 جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ اس بجٹ میں کوئی نئی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ضلعی سطح کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 15 ارب روپے جبکہ پی پی پی منصوبوں کے لیے 109 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت، خصوصا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری، نے حکومت کو چھوٹے منصوبوں کے بجائے بڑے اور دور رس اثرات رکھنے والے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے میں کیٹی بندر گہرے سمندر کی بندرگاہ منصوبہ زیر غور ہے۔ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اس منصوبے پر چینی شراکت داروں سے بات چیت کر چکے ہیں جبکہ ممکنہ سرمایہ کاروں اور کمپنیوں سے مشاورت بھی شروع ہو چکی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بندرگاہ کو عوامی و نجی شراکت داری کے تحت تعمیر کیا جائے گا اور وفاقی حکومت کو بھی اس منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی قیادت کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ سندھ اور پاکستان کی بحری معیشت کے لیے ایک گیم چینجر منصوبہ ہوگا۔وزیراعلی نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے اور تین ممکنہ مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی موجودہ مدت مکمل ہونے سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں ہوگی بلکہ تمام ضروری سہولیات، آلات، ٹیکنالوجی اور رابطہ کاری سے آراستہ ایک جدید مالیاتی مرکز ہوگا۔مراد علی شاہ نے ایک اور بڑے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گرین انرجی ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ تھر کے ترقیاتی ماڈل سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے پاس شمسی توانائی کے وافر وسائل موجود ہیں، لیکن وفاقی حکومت صوبے کی اضافی بجلی خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہی۔ اسی لیے حکومت قابل تجدید توانائی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ڈیٹا سینٹر آپریٹرز کو فروخت کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ کو گرین ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کا اہم مرکز بنا سکتا ہے۔
بزدلانہ حملے حکومت کے عزم اور حوصلے پست نہیں کرسکتے، وزیراعلی
پاکستان انتہائی بحرانی حالت میں ہے،محمود خان اچکزئی
ملکی ترقی کیلئے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے، وزیراعظم
وزیر اعلیٰ نے 5بہن بھائیوں ،والدہ کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا لی
بلوچستان اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے ، گورنر
بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے نجی شعبے کی شرکت ناگزیر ہے، چیف سیکرٹری
ڈیرہ مراد جمالی ، نامعلوم مسلح افراد کا جعفرایکسپریس پر راکٹ سے حملہ
عالمی برادری کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے عملی اقدامات کرے،الیاس کبزئی
اپوزیشن جب تک مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں لوٹے گی معاملات حل نہیں ہوں گے، طلال چودھری
خطے میں پائیدار امن کے فروغ میں مکہ الائنس فار ڈیفنس کا کردار اہم ہے، اسحاق ڈار