واشنگٹن/تہران ۔۔۔۔۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر امریکی علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس اہم آبی گزرگاہ پر ناکہ بندی کے ذریعے کنٹرول رکھتا ہے۔اس بات کا دعویٰ امریکی صدر نے گزشتہ روز جنوبی کیرولائنا میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم جیتے ہیں یا نہیں کیونکہ میں اس وقت آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ سمجھتا ہوں۔صدر ٹرمپ کے بقول امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے اور کوئی بھی جہاز اس وقت تک وہاں سے گزر نہیں سکتا جب تک امریکا اس کی اجازت نہ دے۔انھوں نے ایران پر مزید بمباری کے حوالے سے مذاقا کہا کہ جمعہ کی رات ہے، ہمارے پاس کافی وقت ہے اور پھر سوالیہ انداز میں پوچھا کہ مجھے مزید کیا کرنا چاہیے؟ کیا ایران پر تھوڑی مزید بمباری کروں؟یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا ہو، چند روز قبل آبنائے ہرمز کے نقشے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں اس آبی گزرگاہ کو نیا امریکی علاقہ قرار دیا تھا۔جس پر ایران نے امریکی صدر کے مقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق دعووں کو خیالی باتیں قرار دیتے ہوئے انھیں مسترد کردیا۔ انتظامیحکومتی امور کے بارے میں جانناآبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے ٹرمپ کے دعوے کے باوجود یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اس کی حیثیت سے متعلق امریکی صدر کا یک طرفہ اعلان بین الاقوامی سطح پر ایک انتہائی غیر معمولی مقف تصور کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرامینیا نے کہا ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ نے نئی جغرافیائی و سیاسی بیداری کو جنم دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک اہمیت اور ایرانی خارجہ پالیسی سے متعلق عوامی شعور بڑھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج کا نظریہ دفاعی پوزیشن سے فعال اور پیش قدمی والی حکمت عملی میں بدلا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران خود تنازعات شروع کرے گا۔بریگیڈیئر جنرل محمد اکرامینیا نے کہا کہ ایران جارحیت کی صورت میں فوری اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت برقرار رکھے گا۔۔۔۔۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت معاشی اور عسکری لحاظ سے حالتِ جنگ میں ہے، تاہم ملک مشکلات کے سامنے مضبوطی سے ڈٹا ہوا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران غیر قانونی جنگی حالات میں عوام کی خدمت کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن ایران کو ناکام اور تنزلی کا شکار دیکھنا چاہتا ہے، لیکن عوام کے اتحاد نے ایران کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر ابھارا ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ دشمن نے ایران کو وینزویلا بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ایسا نہیں ہوسکا، جنگی مشکلات کا سامنا کرنے والے عوام کے متفقہ موقف کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں مدد ملی۔مسعود پزشکیان کے مطابق ماہرین نے مفاہمتی یادداشت کو مصلحت، عزت اور دانائی پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جو لوگ اس مفاہمت کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ معاملات کو درست انداز میں نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ نے ملاقات کی ہے جس میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی جنگ کے اعلان سے پیدا صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی طے کی گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت کی تینوں شاخوں کے سربراہوں نے زور دیا کہ مختلف اداروں کے درمیان بہتر اور موثر رابطہ قائم کیا جائے تاکہ لوگوں کی زندگیوں پر معاشی دباو روکا جائے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ملکی سربراہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے نتیجے میں کمزور طبقات کو مدد ملے اور قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔۔۔۔۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایک انٹرویو میں ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ ہم تمام پڑوسی ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ ہمارے خلاف معاشی جنگ میں شریک نہ ہوں ورنہ ہم انہیں بھی دشمن سمجھیں گے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بڑھانا نہیں چاہتے مگر ایران کے پڑوسی ممالک نے معاشی جنگ میں امریکا سے تعاون کیا تو ہم انکے مفادات پر ضرب لگائیں گے،تیل کا ایک قطرہ بھی خلیج فارس یا آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دیں گے۔محسن رضائی نے کہا کہ یہی نہیں خلیج فارس سے تیل درآمد کے لیے استعمال دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنایا جائےگا، امریکیوں نے انقلاب ایران مخالف گروہوں سے ملاقاتیں کیں تو وہاں بھی حملہ کیا جائے گا۔میجر جنرل رضائی نے کہا کہ امریکی سمجھتے تھے کہ وہ چند روز میں جنگ ختم کرکے تیل اور گیس پر قبضہ کرلیں گے تاہم اس جنگ میں بارہ سو آئل ٹینکرز استعمال کے قابل نہیں رہے اور پندرہ فیصد عالمی فلیٹ ناکارہ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تہران کو چاہیے کہ وہ تنازعہ میں اپنے نقطہ نظر اور دنیا کے ساتھ سفارتی طرز عمل کو بدلے کیونکہ امریکا نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔محسن رضائی نے کہاکہ ایران وہ ایران نہیں جو جنگ سے پہلے تھا، سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کی جانب سے نئی فوجی تقرریاں اس بات کی علامت ہیں کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے۔انہوںنے کہاکہ ایرانی نوجوانوں کے ذہنوں میں امریکا کا امن سے محبت کرنیوالی قوم کا تاثر بھی تبدیل ہوچکا ہے۔ امریکا نے مذاکرات، سفارتکاری اور خود اپنے دستخطوں کو دھوکہ دیا۔محسن رضائی نے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات سے خدشہ ہے مزید ممالک ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، پوری دنیا سمجھ گئی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ احمق شخص ہیں جبکہ دنیا ایران کو نئے انداز سے دیکھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے طریقے میں یقینا تبدیلی لائی جائے گی۔ایران جنگ کے ان تجربات کو اگلی جنگ میں استعمال کرے گا۔پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدے سے متعلق سوال پر محسن رضائی نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ان ممالک کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ خطہ چھوڑنا چاہتا ہے۔ایک سوال پر محسن رضائی نے کہا کہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ رضا پہلوی کی واپسی سے ایران جنت بن جائے گا، انہیں یہ جاننا چاہیے کہ اگر پہلوی کو پھر سے اقتدار کے لیے لایا جاتا تو ایران پانچ حصوں میں تقسیم ہوجاتا۔۔۔۔۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی معاشی جنگ وہی پرانی امریکی غنڈہ گردی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی پرانی فلم ہے، ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی دھمکیوں کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں، ہم دھمکیوں، پابندیوں سے خوفزدہ نہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کی تمام چالیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ایک بار پھر آبنائے ہرمز امریکی علاقہ قرار د ۔۔۔۔۔۔۔، ٹرمپ کا ایران پر بمباری کا عندیہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل