ڈاکٹر عبدالشکور کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس

گوادر(خ ن) ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع گوادر میں تعلیمی سرگرمیوں، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، اساتذہ کی حاضری، کلسٹر بجٹ کے شفاف استعمال اور طلبہ کو بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی سمیت مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر رومیل نعیم جان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ایس ڈی پی او گوادر چاکر بلوچ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن خواتین زراتون بلوچ، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میل وہاب مجید، پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سبین بلوچ، سول سوسائٹی کے نمائندہ عارف بلوچ، سوشل ویلفیئر آفیسر عبیداللہ، پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے جمیل قاسم، یونیسیف کے عادل بلوچ، ڈسٹرکٹ منیجر این آر ایس پی پیر جان بلوچ، ایس ڈی او کیسکو محمد حسین بلوچ، ایس ڈی او بی اینڈ آر جنید کاشانی، آر ٹی ایس ایم کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ افسران و اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کلسٹر بجٹ کے فزیکل انسپیکشن، بجٹ کے شفاف اور مو¿ثر استعمال اور اس کی مانیٹرنگ کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ کلسٹر بجٹ کے تحت ہونے والے اخراجات اور ترقیاتی و مرمتی کاموں کی فزیکل تصدیق متعلقہ تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کی نگرانی میں کی جائے گی، تاکہ مختص فنڈز کا درست اور شفاف استعمال یقینی بنایا جا سکے۔تعلیمی اداروں کی فعالیت کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع گوادر میں اس وقت کوئی بھی سرکاری اسکول غیر فعال نہیں ہے۔ اساتذہ کی دستیابی، حاضری اور تدریسی سرگرمیوں کی مسلسل مانیٹرنگ کے ذریعے اسکولوں کو فعال رکھنے اور طلبہ کو تعلیمی مواقع کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس میں غیر حاضر اساتذہ کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ آر ٹی ایس ایم کی جانب سے اساتذہ کی حاضری سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جس کا جائزہ لیتے ہوئے غیر حاضری کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق تنخواہوں میں کٹوتی اور دیگر محکمانہ کارروائیوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اساتذہ کی بروقت حاضری اور ذمہ دارانہ تدریسی کردار تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے BSDI اور PSDP کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج گوادر میں زیر تعمیر منصوبوں اور بی ایس ڈی ائی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ لی گئی اور کام کی رفتار، معیار اور بروقت تکمیل سے متعلق امور زیر بحث آئے۔اجلاس میں ضلع گوادر میں اساتذہ کی بھرتی، بالخصوص خواتین اساتذہ کی دستیابی کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے تدریسی عملے کی ضروریات اور دستیاب آسامیوں سے متعلق شرکاءکو آگاہ کیا، جبکہ اس امر پر زور دیا گیا کہ اساتذہ کی کمی کو دور کرکے دور دراز علاقوں کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے۔یونیسیف کی جانب سے ضلع میں تعلیمی سرگرمیوں اور متعلقہ پروگرامز کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تحت نان فارمل ایجوکیشن اور دینی مدارس کی رجسٹریشن کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نان فارمل تعلیمی مراکز اور مدارس کے حوالے سے قانونی و انتظامی تقاضوں کو پورا کرنے اور تعلیمی سرگرمیوں کو مو¿ثر انداز میں منظم کرنے پر زور دیا گیا۔نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی اجلاس میں اہم امور زیر بحث آئے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات، عمارتوں اور انفراسٹرکچر، تعلیمی ماحول اور تدریسی نظام کے معیار کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا کہ نجی تعلیمی ادارے بھی طلبہ کو محفوظ، معیاری اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے مقررہ معیار پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔اجلاس میں درسی کتب کی دستیابی اور بروقت فراہمی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ اسکولوں میں درسی کتب کی ضروریات کا درست تعین کرتے ہوئے ان کی بروقت سپلائی اور طلبہ تک تقسیم یقینی بنائی جائے، تاکہ تدریسی عمل متاثر نہ ہو۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور ضلع گوادر میں تعلیمی معیار کی بہتری، اسکولوں کی فعالیت، اساتذہ کی حاضری اور طلبہ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کا عمل مزید مو¿ثر بنایا جائے اور سرکاری وسائل کے شفاف و مو¿ثر استعمال کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی تعلیمی ترجیحات کے مطابق ضلع گوادر میں ہر بچے کو معیاری اور بلاتعطل تعلیم کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں تعلیمی شعبے سے متعلق فیصلوں پر مو¿ثر عملدرآمد اور پیش رفت کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں