بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک اور شاہراہیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں، اسد قیصر
کوئٹہ ۔۔۔۔۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہمیشہ ایسی حکومتیں قائم کی گئیں جو عوامی نہیں تھیں، صوبے کو آئین اور قانون کے مطابق اس کا حق ملنا چاہیے، بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک اور شاہراہیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں۔یہ بات انہوں نے پیر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ اسد قیصر نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بلوچستان کے عوام کے لیے محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ بڑی قربانیاں دی ہیں اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے ان کی جماعت کا مو¿قف بالکل واضح ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ غیر عوامی حکومتیں قائم کی گئیں اور اسمبلی میں اکثریت ایسے نمائندوں کی ہے جو حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عوام سے ان کا بنیادی حق چھین لیا جائے گا تو حالات خراب ہی ہوں گے۔اسد قیصر نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں حکومتی رٹ موجود نہیں اور صوبے کی تمام شاہراہیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہوں پر سفر کے دوران لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں بلکہ سرمایہ کار بھی یہاں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان مایوسی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ تجارتی بارڈرز کی بندش کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سرحدی تجارتی راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ عمران خان کو مزید سزائیں دلوانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور انصاف کے لیے سب کو کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کی بات نہیں سنی جائے گی، حالات مزید خراب ہوتے جائیں گے۔ اسد قیصر نے نیشنل ایکشن پلان پر مو¿ثر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی نے آج تک جتنی قانون سازیاں کی ہیں، ان میں ایک بھی عوام کے مفاد کے لیے نہیں کی گئی۔