کوئٹہ (خ ن)چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ (بی ایم آر ایل) اور بلوچستان منرلز ایکسپلوریشن کمپنی (بی ایم ای سی) کے امور و کارکردگی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں سرکاری کمپنیوں کے موجودہ منصوبوں، ادارہ جاتی کارکردگی، معدنی وسائل کی تلاش اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری نے کمپنیوں کے انتظامی امور کا جامع جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل صوبے کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کی وسعت کے لیے ایک بڑا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان وسائل کا استعمال شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی مفاد کے مطابق کیا جائے۔ انہوں نے بی ایم آر ایل اور بی ایم ای سی کو ہدایت کی کہ وہ اپنی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی ترجیحات کے تحت جامع بزنس پلان تیار کریں۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ بزنس پلان میں معدنی وسائل کی شناخت، سروے و ایکسپلوریشن، سرمایہ کاری کے مواقع، مارکیٹنگ، قدر و قیمت میں اضافے اور پائیدار آپریشنز کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں محض انتظامی ادارے نہیں بلکہ صوبے کی معدنیات کی ترقی کے لیے کاروباری و تکنیکی اداروں کی حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا ان کی کارکردگی کا جائزہ واضح اہداف، نتائج اور وقت کی حد بندی کے تحت کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے نجی شعبے کی شرکت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کمپنیوں کو ہدایت کی کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار، شفاف اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کیا جائے تاکہ معدنی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو فروغ دینے، کاروباری عمل کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبے کی بہتر کارکردگی سے نہ صرف صوبائی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ مقامی افراد کو روزگار اور ہنر کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ چیف سیکریٹری نے دونوں کمپنیوں کی اب تک کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور دونوں کمپنیوں کی انتظامیہ کو مستقبل قریب میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے نجی شعبے کی شرکت ناگزیر ہے، چیف سیکرٹری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل