حب ( پ ر ) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، ترجمان صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور سینئر صوبائی نائب صدر پیپلز پارٹی بلوچستان میر علی حسن زہری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے حوالے سے آئینی اقدامات کی حمایت اور ان کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قومی مفادات، عوام کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داریوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے۔ ملک میں کسی بھی آئینی اقدام کے بعد وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بلاجواز تنقید اور منظم پروپیگنڈے کا نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ سیاسی اختلاف ہر جماعت کا حق ہے لیکن ہر معاملے کا ملبہ وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت پر ڈالنا نہ سیاسی دیانت داری ہے اور نہ ہی قومی مفاد میں ہے۔ اگر کوئی اقدام آئینی تقاضوں کے مطابق اٹھایا گیا ہے تو محض سیاسی مخالفت کی بنیاد پر اسے متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں منفی طرزِ عمل، قومی اداروں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے، سیاسی مخالفین کے خلاف غیر شائستہ زبان کے استعمال اور غیر ذمہ دارانہ سیاسی رویوں نے ملک میں سیاسی کشیدگی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے لیکن اختلاف کے نام پر مخالفین کی تضحیک، اداروں کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات اور سیاسی ماحول کو مسلسل کشیدہ رکھنا کسی بھی طور پر ذمہ دارانہ سیاست نہیں کہلا سکتا۔ سیاسی رہنماو¿ں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ الفاظ، فیصلوں اور سیاسی رویوں کے نتائج بھی ہوتے ہیں۔ آج پی ٹی آئی کو جن سیاسی مشکلات اور حالات کا سامنا ہے، ان کے پس منظر میں اس کے ماضی کے سیاسی طرزِ عمل اور اختیار کردہ حکمتِ عملی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ سیاست میں محض دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے فیصلوں اور رویوں کی ذمہ داری قبول کرنا ہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ بعض سیاسی رہنماو¿ں اور نام نہاد قوم پرست حلقوں کی جانب سے عمران خان کی رہائی، پی ٹی آئی کے گرفتار کارکنوں کی رہائی اور خیبرپختونخوا کی صورت حال پر بیانات تو سامنے آتے ہیں، لیکن یہی آوازیں ماضی میں اس وقت کیوں خاموش رہیں جب سیاسی مخالفین کو گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا تھا؟۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، فریال تالپور، حمزہ شہباز، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، رانا ثناءاللہ سمیت متعدد سیاسی رہنماو¿ں کو گرفتاریوں، حراست اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا اس وقت سیاسی انتقام کے خلاف آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری نہیں تھی؟ کیا فریال تالپور، مریم نواز، حمزہ شہباز اور دیگر سیاسی رہنما کسی کے خاندان کا حصہ اور اس ملک کے شہری نہیں تھے؟ کیا ان کے بنیادی حقوق اور عزت و وقار کی کوئی اہمیت نہیں تھی؟۔ آج عمران خان اور ان کی بہنوں کی گرفتاری یا نظر بندی کے معاملے پر آواز اٹھانے والے رہنماو¿ں کو بھی چاہیے کہ وہ ماضی میں دوسرے سیاسی خاندانوں اور رہنماو¿ں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو یاد رکھیں۔ کیا سابق وزیراعظم نواز شریف ، فریال تالپور، مریم نواز اور دیگر سیاسی رہنماو¿ں کے بنیادی حقوق اہم نہیں تھے؟ اصولوں کا تقاضا ہے کہ انصاف اور قانونی حقوق کا مطالبہ ہر سیاسی جماعت کے لیے یکساں ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی انصاف کا تقاضا ہے کہ اصولوں کا اطلاق صرف اپنے پسندیدہ رہنماو¿ں کے لیے نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت اور ہر شہری کے لیے یکساں ہو۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر سیاسی رہنماو¿ں کو بھی چاہیے کہ وہ قومی معاملات پر موقف اختیار کرتے وقت سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اصولوں کی بات کریں۔ کسی ایک جماعت کے لیے آئینی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا مطالبہ کرنا جبکہ دوسری جماعت کے دور میں انہی اصولوں کو نظرانداز کرنا، سیاسی اعتبار سے کمزور موقف ہے۔ ملک کو اس وقت ذمہ دارانہ سیاست، سنجیدہ مکالمے اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے بیانات کی جو پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھائیں۔ماضی میں دوسروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر خاموشی اختیار کرکے آج اصول پسندی کا دعویٰ کرنا دوہرا معیار ہے۔ سیاسی تاریخ کو فراموش کرکے عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ قوم سب کچھ دیکھتی ہے اور وقت آنے پر سیاسی کرداروں کا فیصلہ بھی کرتی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو درپیش پیچیدہ سکیورٹی، انتظامی اور معاشی چیلنجز کے باوجود وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی عوامی مسائل کے حل، امن و امان کی بہتری اور صوبے کی ترقی کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ مشکل حالات میں ذمہ داری سنبھالنا، انتظامی معاملات کو آگے بڑھانا اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنا حوصلے اور سیاسی عزم کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں اور صوبے کے مفاد میں حکومتی اقدامات کو سیاسی تعصب کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر جانچنا چاہیے۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن، ترقی، روزگار، تعلیم اور بہتر بنیادی سہولیات چاہتے ہیں۔ صوبے کے وسائل اور ترقیاتی منصوبے عوام کی امانت ہیں، جنہیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عوامی فلاح کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ جو پارٹیاں بلوچستان میں حکومتوں سے اپنے مفادات بھی حاصل کرتی ہیں وسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں ان پر بھی لازم ہے کہ وہ صوبے کے عوام کے سامنے اپنی سیاست، ترجیحات اور عملی کارکردگی کا واضح حساب پیش کریں اور دوہرے معیار سے گریز کریں۔
آئینی اقدامات کی مخالفت کرنے والے پہلے اپنے سیاسی کردار کا حساب دیں، میر علی حسن زہری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل