کوئٹہ۔۔۔۔۔۔۔۔عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صدر سید امان شاہ نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی جانب سے پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد تک بڑھنے کی پیشگوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی و گیس کے بھاری بلوں اور روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید معاشی دبا کا سامنا کر رہے ہیں۔ مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے حکومت کو عوامی مسائل کے حل کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی تازہ پیشگوئی اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مہنگائی کے ہدف میں نمایاں فرق اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ معاشی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور عوام کو ممکنہ مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے ساتھ عام شہری کی قوت خرید، روزگار کے مواقع اور بنیادی ضروریات تک رسائی کو بھی ترجیح دی جائے۔ سید امان شاہ نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح کے حوالے سے مثبت تخمینے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر معاشی ترقی کے باوجود عوام کو آٹا، چینی، گھی، دالیں، ادویات، بجلی اور ایندھن مہنگے داموں خریدنا پڑیں اور ان کی آمدن اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہو تو معاشی پالیسیوں کے حقیقی ثمرات پر سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشی اشاریوں کے ساتھ عوام کی عملی معاشی صورتحال کو بھی اپنی پالیسیوں کی کامیابی کا پیمانہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل کرنے سے پہلے کم آمدن والے طبقات کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔ موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے اعلان کردہ امدادی اقدامات اسی صورت میں مثر ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کا دائرہ کار، شفافیت اور مستحق افراد تک رسائی یقینی بنائی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ محدود اور ہدفی ریلیف کے ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے، ذخیرہ اندوزی روکنے اور منافع خوری کے خلاف مثر کارروائی کرنے پر بھی توجہ دے۔ عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صدر نے مزید کہا کہ معاشی مشکلات کا سب سے زیادہ بوجھ مزدوروں، سرکاری و نجی ملازمین، چھوٹے کاروباری افراد اور دیہاڑی دار طبقے پر پڑتا ہے۔ حکومت کو ان طبقات کی آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لیے قابل عمل اقدامات کرنا ہوں گے۔
آئی ایم ایف کی مہنگائی بڑھنے کی پیشگوئی تشویشناک ہے، سید امان شاہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل