عدالتی خدمات میں بہتری کیلئے بینچ و بار کا تعاون ضروری‘ چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا دورہ کیا اور بار نمائندگان کے ساتھ مشاورتی نشست کی۔چیف جسٹس کے ہمراہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی موجود تھے، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید، دیگر عہدیداران اور بار ارکان نے مشاورتی نشست میں شرکت کی۔نشست میں عدالتی اصلاحات، ڈیجیٹل جدت، کیس مینجمنٹ اور سائلین کو سہولیات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سپریم کورٹ انتظامیہ نے بار نمائندگان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ سے متعلق بریفنگ دی۔اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ کے ذریعے وکلا، سائلین اور عام شہریوں کو عدالتی معلومات اور خدمات تک 24گھنٹے رسائی حاصل ہوگی، اس پلیٹ فارم پر عام فہم زبان میں سوالات کرکے عدالتی معلومات حاصل کی جا سکیں گی جبکہ مقدمات کی تلاش، کاز لسٹ، سماعت کی تاریخوں، وکلا کی معلومات اور ججز کے عدالتی روسٹرز تک بھی رسائی ممکن ہو گی۔اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ پر مصدقہ نقول کی درخواستوں، جلد سماعت کی درخواستوں، ویڈیو لنک سہولیات اور سماعت ملتوی ہونے سے متعلق معلومات بھی دستیاب ہوں گی۔نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے وکلا اور سائلین کے وقت اور اخراجات میں کمی لانے کے ساتھ غیر ضروری عدالتی دوروں سے بچنے میں مدد ملے گی۔سپریم کورٹ کی آن لائن خدمات کے استعمال میں آسانی کے لئے معلوماتی ویڈیو گائیڈز بھی تیار کر لی گئی ہیں جبکہ بار نمائندگان کو ان گائیڈز کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے بار نمائندگان کو مقدمات کے فیصلوں اور زیر التوا مقدمات میں کمی سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا۔جیل پٹیشن کو سماعت کے لئے مقرر کرنے کے طریقہ کار سے متعلق بار کے تحفظات پر وضاحت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جیل پٹیشن دائر ہونے کی ترتیب کے مطابق سماعت کے لئے مقرر کی جاتی ہیں اور پہلے دائر ہونے والی پٹیشن کو ترجیح دی جاتی ہے، تاہم متعلقہ عدالتی ریکارڈ کی دستیابی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جن پرانی جیل پٹیشن کا مطلوبہ ریکارڈ موصول نہیں ہوا، انہیں ریکارڈ کی دستیابی تک سماعت کے لئے مقرر نہیں کیا جا سکتا، جیل پٹیشن مقرر کرنے کا طریقہ کار انصاف، یکسانیت اور شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی منظوری دینے کا مجاز ہے جبکہ ایسی درخواستوں کے لئے ٹھوس اور قابل جواز وجوہات پیش کرنا ضروری ہیں۔بار نمائندگان نے عدالتی انتظام، مقدمات مقرر کرنے کے طریقہ کار اور سائلین کی سہولت سے متعلق تجاویز پیش کیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتی خدمات میں بہتری کے لئے بینچ اور بار کے درمیان مسلسل مشاورت اور تعاون ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی ڈیجیٹل اصلاحات کا مقصد بروقت انصاف، شفاف عدالتی طریقہ کار اور انصاف تک آسان رسائی یقینی بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں