ذہنی امراض سے متعلق امتیازی رویہ ‘صورتحال کی تبدیلی کیلئے حکومت پرعزم‘ وزیراعظم

اسلام آباد:وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت وزارت قومی صحت کے ذریعے پاکستان قومی ذہنی صحت پالیسی 35 -2026پر کام کر رہی ہے، ذہنی امراض کے شکار افراد کا علاج ، نگہداشت اور بحالی تمام اکائیوں بشمول حکومت، تعلیمی ادارے،خاندان، سول سوسائٹی، ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں کی اجتماعی کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔ وزیراعظم نے ذہنی صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے پیغام میں کہا کہ ذہنی صحت کے عالمی دن پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ذہنی امراض اور نفسیاتی مسائل کے علاج کی اہمیت پر بھر پور انداز میں آواز اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس امر کا احساس ناگزیر ہے کہ ذہنی صحت کے بغیر جسمانی صحت کا تصور نامکمل ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ذہنی امراض کے شکار افراد کا نقطہ نظر سننے اور اس کو متعلقہ پالیسی، خدمات اور فیصلوں میں شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ذہنی امراض کے علاج اور صحت کے نظام کو موثر اور مضبوط بنانے کے لئے متاثرہ افراد کے مسائل اور ماہرین کی رائے کی بامعنی شمولیت ہی کامیاب حکمت عملی کی ضمانت ہے۔ ذہنی صحت کا تعلق محض ذہنی امراض سے نہیں بلکہ نوجوان نسل کی ذہنی نشوو نما اور صلاحیتوں کو مکمل بروئے کار لانے کے نظام پر بھی ہے۔ نوجوانوں کی شخصیت سازی ،صلاحیتوں کے نکھار اور ذہنی ارتقا میں درپیش مسائل کا ادراک انفرادی اور اجتماعی سطح پر ضروری ہے۔ ان مسائل پر توجہ سے ہی بہترین افرادی استعداد اور قابلیت کو قومی ترقی و خوشحالی کے دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ذہنی امراض کی نشاندہی اور علاج کو جسمانی امراض کی طرح انفرادی، خاندانی اور معاشرتی قبولیت کا ماحول چاہئے تاکہ متاثرہ افراد غیر ضروری معاشرتی دباﺅ سے آزاد ہو کر تمام تر توجہ مرض کے علاج اور صحت کی بحالی پر مرکوز کر سکیں۔ آج بھی بہت سے لوگ ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی، بروقت علاج میں تاخیر اور ضروری معاونت کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذہنی امراض سے متعلق امتیازی رویہ اور علاج میں ہچکچاہٹ کی صورتحال تبدیل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں