ٹین ملین ٹری سونامی پروجیکٹ” کے 79 ڈیلی ویجیز ملازمین تنخواہوں سے محروم
اوتھل(نامہ نگار)محکمہ جنگلات لسبیلہ کے تحت چلنے والے “گرین پاکستان ٹین ملین ٹری سونامی پروجیکٹ” کے 79 ڈیلی ویجیز ملازمین گزشتہ ایک سال سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے، جس کے خلاف ملازمین نے سٹی پریس کلب اوتھل کے سامنے اپنے حقوق کے لیے ایک پرامن احتجاجی ریلی نکالی۔تفصیلات کے مطابق ٹین ملین ٹری سونامی پروجیکٹ کے متاثرہ ملازمین کے ایک وفد کی اپیل پر مختلف سماجی اور ملازمین تنظیموں نے احتجاج میں بھرپور شرکت کی۔ یہ احتجاجی ریلی درج ذیل رہنماو¿ں کی قیادت میں سٹی پریس کلب اوتھل سے نکالی گئی جو قومی شاہراہ کا گشت کرنے کے بعد دوبارہ سٹی پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی ?گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن لسبیلہ (جی ٹی اے) کے چیئرمین اور گرینڈ الائنس لسبیلہ کے ضلعی صدر عبدالواحد سومرو، پیر غلام شاہ جیلانی، غلام محمد عرف گلفام دودا، ضلعی جنرل سیکرٹری احسان الحق بلوچ، اور ممبر عبد الستار دودا ، پاکستان یونائیٹڈ ورکر فیڈریشن لسبیلہ کے صدر قاضی صفی اللہ رونجھو، جنرل سیکریٹری برکت علی جاموٹ، اور چیئرمین غلام مصطفی رونجھو، ایریگیشن ایمپلائز ایسوسی ایشن لسبیلہ کے چیئرمین محمد یونس چنہ، وائس چیئرمین غلام قادر شیخ، اور ممبر مشاورتی کمیٹی علی انگاریہ، رکشہ یونین کے صدر زاہد علی جاموٹ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران کو اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس شدید مہنگائی کے دور میں ملازمین کا گھر کا چولہا کس طرح چل رہا ہے، یہ صرف وہی جانتے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کی تنخواہیں ریلیز کرنی چاہئیں۔مظاہرے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ ملازمین کا کہنا تھا کہ ہم ایک سال سے تنخواہوں سے محروم ہیں، لیکن اس کے باوجود انتہائی ایمانداری اور دل لگا کر نرسریوں اور دیگر سائٹس پر پودوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ تنخواہیں نہ ملنے کے باعث ہمارے گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں اور دکانداروں نے بھی اب ہمیں ادھار پر سودا سلف دینا بند کر دیا ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالیں۔جی ٹی اے گرینڈ الائنس کے صدر عبدالواحد سومرو نے ملازمین کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناانصافی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان ملازمین نے مایوس ہو کر کام چھوڑ دیا تو ٹین ملین ٹری پروجیکٹ کے تحت لگائے گئے ہزاروں سرسبز درخت سوکھ جائیں گے، جس سے محکمے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچے گا۔?عبدالواحد سومرو نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہمیں شنید میں آ رہا ہے کہ ڈیلی ویجیز ملازمین کی سرکاری سیلری 32,000 روپے آتی ہے جبکہ ایک سال قبل انہیں صرف 25,000 روپے دیے جاتے تھے۔ ہم یونین کے تمام نمائندے اس بار افسران کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ڈیلی ویجیز ملازمین کی سیلری کا مسئلہ فوری حل کیا جائے اور ان کی جو رقم بنتی ہے وہ بغیر کسی کٹوتی کے مکمل مہیا کی جائے۔متاثرہ ملازمین اور الائنس کے رہنماو¿ں نے وفاقی وزیر تجارت نواب جام کمال خان عالیانی، صوبائی وزیر میر زرین خان مگسی، صوبائی وزیر جنگلات، سیکریٹری جنگلات اور ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (DFO) لسبیلہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور رکی ہوئی تنخواہیں فوری بحال کریں تاکہ ملازمین کے گھروں سے فاقہ کشی کا خاتمہ ہو سکے۔ احتجاجی ریلی میں مختلف یونینز کے نمائندوں اور متاثرہ ڈیلی ویجیز جنگلات ملازمین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔