سونمیانی وندر(رپورٹ۔زبیر بلوچ)وندر، 2 لاکھ گیلن واٹر ٹینک منصوبہ ٹھیکیدار کی مبینہ غفلت و عدم دلچسپی کے باعث تعطل کا شکار ادھورا ٹینک سوالیہ نشان بن گیا چھت کہاں گئی؟ کس نے نگل لی؟ کوئی پتہ نہیں منصوبے میں مبینہ ناقص میٹریل کے استعمال کا انکشاف کمشنر لسبیلہ ڈویڑن سائرہ عطاءاور ڈپٹی کمشنر ضلع حب جمعداد خان فوری نوٹس لے کر منصوبے کا کام دوبارہ شروع کروائیں ۔ تفصیلات کے مطابق وندر شہر میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے شروع کیا جانے والا 2 لاکھ گیلن واٹر ٹینک منصوبہ مبینہ طور پر مبینہ غفلت اور عدم دلچسپی کے باعث کئی ہفتوں سے تعطل کا شکار ہوکر رہ گیا ہے منصوبے پر کام شروع ہونے کے باوجود اسے مکمل نہ کیا جا سکا اور مبینہ طور پر ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر رفو چکر ہوگیا جبکہ زیر تعمیر واٹر ٹینک آج بھی اپنی تکمیل کا منتظر ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ عوامی مفاد میں شروع کیے گئے منصوبے کو آخر کس وجہ سے ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ واٹر ٹینک منصوبے میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں جس کے باعث منصوبے کے معیار اور پائیداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ منصوبے میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل کے معیار کا متعلقہ حکام کی جانب سے فوری طور پر معائنہ اور مکمل جانچ پڑتال کی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ دوسری جانب زیر تعمیر واٹر ٹینک کا کام ادھورا پڑا ہوا ہے اور سب سے اہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ٹینک کی چھت کہاں گئی؟ کس نے نگل لی؟ اس حوالے سے عوامی حلقوں میں مختلف سوالات گردش کر رہے ہیں تاہم منصوبے کی موجودہ صورتحال نے متعلقہ حکام کی نگرانی اور ٹھیکیدار کی ناقص کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ عوام کو پانی کی فراہمی کے لیے شروع کیا گیا تھا تو اسے مقررہ مدت میں مکمل ہونا چاہیے تھا مگر کام ادھورا چھوڑے جانے سے عوامی سہولت کا یہ منصوبہ عملی طور پر غیر موثر ہوکر رہ گیا ہے۔ وندر کے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے کمشنر لسبیلہ ڈویڑن سائرہ عطائ اور ڈپٹی کمشنر ضلع حب جمعداد خان سے مطالبہ کیا ہے کہ 2 لاکھ گیلن واٹر ٹینک منصوبے کی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے منصوبے کا موقع پر معائنہ کیا جائے تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار کی جانچ کرائی جائے اور منصوبے کو جلد از جلد دوبارہ شروع کرکے مکمل کروایا جائے تاکہ وندر کے شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوسکے۔ عوامی حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران ٹھیکیدار کی مبینہ غفلت لاپرواہی یا ناقص میٹریل کے استعمال کی شکایت درست ثابت ہو تو ذمہ دار ٹھیکیدار کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ معاملے کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی اقدامات کرتے ہوئے واٹر ٹینک منصوبے کا کام فوری طور پر مکمل کروایا جائے تاکہ عوامی مفاد کا یہ اہم منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے اور وندر کے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر آسکے۔
واٹر ٹینک منصوبہ غفلت و عدم دلچسپی کے باعث تعطل کا شکار
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل